اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے عدالت میں دیے گئے بیانات سامنے آ گئے ہیں، جن میں دونوں نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مقدمے کو من گھڑت اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔
عمران خان نے اپنے دفاع میں ریکارڈ کرائے گئے دفعہ 342 کے بیان میں کہا کہ 2018 کی توشہ خانہ پالیسی کے تحت اگر کوئی تحفہ رپورٹ نہ کیا جائے تو اس پر کارروائی کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے بتایا کہ توشہ خانہ سے تحائف مئی 2021 میں حاصل کیے گئے جن پر نیب نے مقدمہ بنایا، حالانکہ ایف آئی اے کے دائرہ اختیار سے متعلق رولز میں کوئی واضح ہدایت موجود نہیں۔
عمران خان کے مطابق ان کے خلاف 2022 سے جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے انعام اللہ شاہ کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے جہانگیر ترین کے گروپ سے وابستہ تھا اور دوہری تنخواہ لینے پر اسے برطرف کیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ انعام اللہ شاہ نے پہلے نیب ریفرنس میں بطور گواہ بلغاری جیولری سیٹ کا ذکر تک نہیں کیا۔
بشریٰ بی بی کا بیان:
بشریٰ بی بی نے اپنے 342 کے بیان میں کہا کہ بلغاری جیولری سیٹ رولز کے مطابق مکمل ادائیگی کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انعام اللہ شاہ کو کسی بھی موقع پر کم قیمت لگانے کی ہدایت نہیں دی۔ ان کے مطابق انعام اللہ شاہ پہلے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ اور پھر وزیراعظم ہاؤس میں ملازم رہا، اور دو جگہ سے تنخواہیں لینے پر برطرف ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انعام اللہ شاہ نے واقعی انہیں تین ارب بیس کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا تو پھر محض 70 ہزار روپے زائد تنخواہ لینے پر چند ماہ بعد برطرف کیوں کیا گیا؟ یہ بات خود مقدمے کی سچائی پر سوال اٹھاتی ہے۔
بشریٰ بی بی نے مزید کہا کہ نیب کا اس کیس پر کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا، اٹلی سے لگائی گئی قیمت کو بطور ثبوت استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور چیئرمین نیب نے بغیر اختیار کے صہیب عباسی کو وعدہ معاف گواہ بنایا۔ ان کے مطابق ایف آئی اے نے بھی کبھی باقاعدہ تحقیقات نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ ون کیس میں بھی گواہوں نے بلغاری سیٹ کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ وہ ایک پردہ نشین خاتون ہیں اور کبھی کسی سیاسی سرگرمی میں شامل نہیں رہیں۔ بشریٰ بی بی نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ ایف آئی اے کو کیس چلانے کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اور ایک ہی الزام پر بار بار کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
واضح رہے کہ عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 29 سوالات پر مشتمل دفعہ 342 کا سوالنامہ دیا تھا، جس کا جواب دونوں نے تحریری طور پر عدالت میں جمع کرایا۔







