اسلام آباد،تہران،واشنگٹن(بیورورپورٹ،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اورخطےمیں امن کے قیام کیلئے ایران امریکاسمجھوتے کے قریب پہنچ گئے۔فیلڈ مارشل کا دورہ ایران کامیاب رہا۔ حوصلہ افزا پیشرفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کہاہےکہ تہران سے ڈیل یا دوبارہ حملے پر ففٹی ففٹی ہوں،آج فیصلہ کرونگا۔ایرانی ترجمان کے مطابق معاہدے سے دور بھی ہیں اور کافی قریب بھی ہیں۔تفصیل کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے ذریعے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی نظام یا طریقہ کار پر ایران، عمان اور اس اہم آبی گزرگاہ سے ملحق دیگر ممالک کے درمیان اتفاق ہونا چاہیے اور امریکا کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ہم معاہدے سے ابھی کافی دور بھی ہیں اور کافی قریب بھی، تاہم امریکی حکام بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم مسئلہ امریکا کی جانب سے ’بحری قزاقی‘ یعنی ناکہ بندی ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کا معاملہ، خصوصاً لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی ترجیح ہے۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک طویل عمل ہے اور ایران کے خلاف امریکا کی دشمنی بھی طویل المدتی ہے، اس لیے قلیل وقت میں کسی نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی‘۔قبل ازیںچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر، سپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ سے تہران میں ملاقاتیں کیں اور امن عمل پر تبادلہ خیال کیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے خصوصی ملاقات بھی کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کی گئی، اس موقع پر سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر نے ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی اور ایران امریکا مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے پہلے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، امن، استحکام، مغربی ایشیا کی سکیورٹی سے متعلق سفارتی کوششوں پر گفتگو کی۔دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی ایران میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایران کی کئی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اور امریکا کے ساتھ جاری تنازعات میں کمی کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ادھرپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کی اعلیٰ قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی کشیدگی کے خاتمے کے لیے حتمی سمجھوتے کے حوالے سے حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مختصر اور انتہائی مؤثر دورہ ایران مکمل ہوا اور اس دوران ان کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں جو 8 اپریل کو جنگ بندی کے بعد خطے میں بدستور موجود کشیدگی کے پیش نظر تناؤ میں کمی لانے اور تعمیری مذاکرات کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کا حصہ تھیں۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرخارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کی۔مزید بتایا گیا کہ ان ملاقاتوں میں گفتگو کے دوران خطے میں امن کے فروغ، استحکام اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مشاورتی عمل کو توسیع دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں، ان ملاقاتوں نے ثالثی کے عمل کے حوالے سے معنی خیز کردار ادا کیا اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بھرپور گفتگو کے نتیجے میں حتمی سمجھوتے کے لیے حوصہ افرا پیش رفت سامنے آئی۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے پاکستان کی جانب سے خطے کے مسائل کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کے فروغ کے لیے مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کو سراہا۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ ایران پہنچنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور دیگر سینئر سول اور عسکری عہدیداروں نے کیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار(آج) تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے‘۔انہوں نے بتایا کہ وہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے‘۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یورینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا کسی تفصیل کے ساتھ حل ہونا اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔







