زکریا یونیورسٹی کا میڈیکل سینٹر بختاور امین ہسپتال کے حوالے، مفت علاج ختم، طلبہ، اساتذہ کا احتجاج

ملتان (وقائع نگار) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے میڈیکل سنٹر کو آؤٹ سورس کردیا ،بختاور امین ہسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ نے معاہدہ کر لیا جس کے تحت اساتذہ، ملازمین، اور طلبہ و طالبات کے لیے مفت علاج کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بختاور امین ہسپتال کے ساتھ دس سالہ معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت ہسپتال یونیورسٹی کے میڈیکل سنٹر کو چلائے گا۔ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے تحت بختاور امین ہسپتال یونیورسٹی کے اساتذہ، ان کے خاندانوں، اور طلبہ و طالبات کو علاج و معالجے میں صرف دس فیصد رعایت فراہم کرے گا۔ اس کے بدلے ہسپتال انتظامیہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ میڈیکل سنٹر کے ساتھ مفت بجلی اور گیس کی سہولیات استعمال کرے گی۔اس فیصلے کے خلاف طلبہ تنظیموں نے شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مفت علاج کی سہولت ختم ہونے سے طلبہ، خصوصاً معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک طالب علم رہنما نے کہا،”یہ فیصلہ طلبہ اور اساتذہ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیکل سنٹر یونیورسٹی کا اثاثہ ہے، لیکن اسے نجی ہسپتال کے حوالے کر کے طلبہ کی سہولیات چھینی جا رہی ہیں۔”طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کریں گی اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کریں گی کہ مفت علاج کی سہولت بحال کی جائے۔ دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اور بختاور امین ہسپتال کے ساتھ شراکت داری سے جدید طبی سہولیات میسر ہوں گی۔یہ فیصلہ یونیورسٹی کمیونٹی میں تنازع کا باعث بن گیا ہے، اور آنے والے دنوں میں احتجاج کے نتیجے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ طلبہ اور اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور میڈیکل سنٹر کو یونیورسٹی کے کنٹرول میں رکھا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں