بھارتی زہریلا آبی وار، سندھ طاس معاہدے پر مجرمانہ خاموشی برقرار، پاکستان دنیا کا سب سے بڑا قبرستان

ملتان(تجزیاتی رپورٹ: میاں غفار احمد) بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کیے جانے کو تقریباً 100 دن گزر چکے ہیں، مجھے اپنی قومی غیرت پر حیرت ہے کہ کسی بھی حکومتی، حزب اختلاف کی یا دیگر سیاسی جماعت کی طرف سے اس اہم ترین مسئلے پر کوئی بھی سنجیدہ کوشش یا سنجیدہ رد عمل سامنے نہیں آیا اور رہا پی ٹی آئی کا معاملہ تو اس کے باقی ماندہ اکابرین کو فرصت ہی نہیں کہ وہ ملکی مفاد اور ملکی معاملات کا سوچیں حالانکہ یہ بہترین ایشو تھا جس پر پی ٹی آئی کھل کر کھیل سکتی تھی اور حکومت کو ڈیفنسو بنا سکتی تھی۔ میں نے انہی دنوں لکھا تھا کہ حکومت پاکستان فوری طور پر بھارت کی طرف سے گندا، زہریلا، آلودہ اور غلیظ پانی پاکستان میں لے کر داخل ہونے والے ہڈیارہ ڈرین سمیت تینوں گندے نالے بند کر دے، حتیٰ کہ ایک محب وطن سیاستدان سے بھی میں نے اس حوالے سے تفصیلی بات کی کہ وہ فوری طور پر مذاکرے کا اہتمام کرکے رائے عامہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور حکومتی حلقوں سے اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر کرینوں کے ذریعے ان تمام گندے نالوں کو بارڈر کے پاکستانی علاقوں میں مٹی سے بھر دیں تاکہ لاہور سے لے کر حیدرآباد اور ٹھٹھہ تک بھارت سے آنے والے اس زہریلے پانی سےجو کہ دریائے راوی سے ہوتا ہوا چناب اور پھر دریائے سندھ میں داخل ہو کر لاکھوں انسانوں، پالتو جانوروں اور جنگلی حیات کی زندگیوں کو مسلسل برباد کر رہا ہے، مزید برباد ہونے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے تحمل سے میری بات تو سنی، وعدہ بھی کیا مگر کیا کچھ نہیں۔ کاش آج ضیا شاہد زندہ ہوتے جنہوں نے کئی ماہ سندھ طاس معاہدے پر دن رات محنت کی، ماہرین سے رہنمائی لی، آبی معاہدوں کے حوالے سے عالمی قوانین کو پڑھا، انٹرنیشنل کنسورشیم کی تفصیلات حاصل کیں تو انہیں حیران کن انکشافات ہوئے جنہیں وہ مسلسل لکھتے رہے اور لاٹھی کے سہارے جھکی ہوئی کمر کو گھسیٹتے ہوئے لاہور سے کبھی بہاولپور میں دریائے ستلج کے درمیان پہنچتے اور دریائے ستلج کے خشک پیٹ میں بیٹھ کر دانشوروں کو اکٹھا کرکے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ بھارت کسی بھی دریا کو مکمل طور پر بند نہیں کر سکتا کیونکہ وہ بھی عالمی قوانین کا پابند ہے اور عالمی قوانین یہ کہتے ہیں کہ دریاؤں میں بہنے والا آبی حیات، جنگلی حیات، لائیو سٹاک اور قدرتی جنگلات کا پانی کسی بھی طور پر بند نہیں کر سکتا کہ دنیا کے تمام ممالک اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، اس لیے اگر پاکستان کی کوئی بھی محب وطن قیادت اس معاملے کو عالمی عدالت میں لے کر جائے تو بھارت دریائے ستلج بیاس اور راوی میں 30 سے 35 فیصد پانی چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ ضیا شاہد نے یہ آواز بہاول نگر، لودھراں اور بہاولپور کے بعد اسلام اباد میں بھی اٹھائی اور لاہور میں بھی مذاکرات کا انعقاد کیا۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں ملک کے ٹاپ کے وکلاء سے بھی رابطہ کیا کہ پہلے اپنی سپریم کورٹ میں یہ کیس لے جایا جائے اور اس کے بعد عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ وہ چند وکلا کو بھی قائل کرتے رہے کہ یہ قومی کاز ہے اور اس کے لیے وہ ایک والنٹیئر کے طور پر کام کریں مگر شاید ان وکلاکو اپنا پروفیشن عزیز تھا قومی مفاد نہیں پھر سودا شروع ہوا اور ایک معروف وکیل نے آج سے سات سال قبل کم سے کم ڈیڑھ کروڑ روپیہ فیس مانگی مگر ضیا صاحب کے مسلسل دباؤ سے وہ ڈیڑھ کروڑ روپے سے بمشکل 60 لاکھ روپے پر آ گئے تو اس رقم کا نصف حصہ جمع کرنے کا ٹاسک اس کالم نگار کو موٹیویٹ کرکے دیا گیا کہ جنوبی پنجاب سے مذکورہ وکیل کو فیس دینے کے لیے فنڈز جمع کیے جائیں۔ اس سلسلے میں مجھے ملتان کے معروف صنعت کاروں چوہدری ذوالفقار انجم اور میاں احسن رشید نے دس دس لاکھ روپے کے دفتر کے نام چیک دیئے اور ضیا صاحب نے دن رات ایک کرکے مقدمہ تیار کروا لیا۔ مجھے یاد ہے کہ ان کا کمرہ کاغذات سے بھرا ہوا ہوتا تھا اور ضعیف العمری میں بھی وہ کئی کئی گھنٹے سندھ طاس معاہدے اور عالمی واٹر کنسورشیم کے حوالے سے ڈاکومنٹیشن کا مطالعہ کرتے تھے۔ گھنٹوں تو وہ مجھے قائل کرتے تھے کہ اس معاملے میں اگر ہم کامیاب ہو گئے اور ہم تین بند دریاؤں میں بھارت سے 30 سے 35 فیصد پانی لینے میں کامیاب ہو گئے تو یہ پاکستان کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ میں نے یہ کام بہت لیٹ شروع کیا، کاش میں چند سال پہلے اتنی محنت کر لیتا ہے تو آج کوئی نہ کوئی نتیجہ حاصل کر لیتا مگر یہ تمام باتیں میرے علم میں ہی نہ تھی اور ویسے بھی پاکستان میں ریسرچ کا تو تصور ہی نہیں ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سندھ طاس معاہدے کے ارباب اختیار تو ستو پی کر سوئے ہوئے ہیں، انہیں اپنے ذمہ داریوں کا سرے سے کوئی احساس ہی نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے ضیا شاہد کو مہلت نہ دی مگر اس اہم ترین معاملے پر ضیا شاہد مرحوم کا کیا ہوا کام تو آج بھی موجود ہے، اور یقینی طور پر مذکورہ وکیل صاحب کے پاس بھی مرحوم کا فراہم کردہ بہت سا مواد موجود ہو گا۔ ہے کوئی محب وطن جو اس سے استفادہ حاصل کر لے۔میں یہ بات بہت دکھ سے لکھ رہا ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میں میرے ایک دوست کے والد اعلیٰ گورنمنٹ افسر تھے تو ان ایام میں میرے دوست کی تمام تر دلچسپی کینیڈین ڈالر ہی میں ہوتی تھی۔ اس وقت انٹرنیٹ تو ہوتا نہیں تھا تو کبھی کبھار ہم گلبرگ مین بلیو وارڈ پر واقع ایک منی ایکسچینجر کے پاس جایا کرتے تھے جہاں سے وہ کینیڈین ڈالر کا ریٹ معلوم کیا کرتا اور دیگر امور نبھاتا جن کا مجھے علم نہ تھا۔ اس سے مجھے اس بات کا کبھی جواب نہیں ملتا تھا کہ وہ پاکستانی روپے کی نسبت کینیڈین کرنسی میں اتنی دلچسپی کیوں لیتا ہے تاہم یہ عقدہ تب کھلا جب یونیورسٹی سے تعلیمی فراغت کے چند ہی ماہ بعد وہ کینیڈا شفٹ ہو گیا جہاں اس کا ایک گیس اسٹیشن اور ایک فاسٹ فوڈ شاپ پہلے سے ہی کام کر رہی تھی اور والد ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا پورا خاندان وہیں شفٹ ہو گیا، اب اس کے والدین کینیڈا میں ہی مدفون ہیں۔پنجاب یونیورسٹی میں 37 سال قبل میں شعبہ ابلاغیات میں پڑھتا تھا اور یہ بات تب ہی طے ہو چکی تھی کہ جن لوگوں نے پاکستان کے اہم ترین فیصلے کرنے ہیں اور جن لوگوں کے ہاتھ میں پاکستان کا مستقبل ہے ان کا مستقبل پاکستان میں نہیں تو وہ پاکستان کے بارے میں کیوں سوچیں گے۔ سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا تھا جب انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنا تھا تو 5 جولائی سے چند روز قبل اپنی فیملی کو ملک سے باہر بھجوا دیا تھا۔ آج بھی ہزاروں پاکستانی آفیسرز اور ارباب اختیار بیرون ملک رہائش اختیار کر چکے ہیں۔ میرے ایک دوست کے بھائی ایک بااثر محکمے کے افسر تھے، وہ پاکستان سے اچھی خاصی ملازمت چھوڑ کر یورپی ملک میں شفٹ ہو گیا اور وہاں اس نے پراپرٹی کا کاروبار شروع کر دیا بھائی کی وجہ سے پہلے ہی سے اعتماد اچھا تھا چنانچہ اس نے پاکستان میں مقیم افسران اور سیاست دانوں کے لیے یورپی ملکوں میں پراپرٹی خریدنے کا کاروبار شروع کر دیا اور آج محض خریداری کی کمیشن میں وہ یورپ میں دو پلازوں کا مالک بن چکا ہے۔ تلخ ترین حقیقت یہی ہے کہ جن کا مستقبل پاکستان میں نہیں وہ پاکستان کے مستقبل کا کیوں سوچیں گے؟ یہ بھی تکلیف دے امر ہے کہ جن کا اور جن کی اولادوں کا مستقبل پاکستان میں نہیں تمام تر فیصلے انہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ پاکستان کا کیوں سوچیں اور انہیں سوچنا بھی نہیں چاہیے، بھاڑ میں گیا سندھ طاس معاہدہ، بھاڑ میں گئے بھارت سے زہریلا پانی لے کر پاکستان میں داخل ہونے والے گندے نالے کہ جن کا پانی عالمی ادارہ صحت کی مختلف رپورٹوں کے مطابق نہ صرف انسانوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ دودھ دینے والے جانوروں کے دودھ میں بھی اس آلودہ پانی کا زہر سرایت کر چکا ہے۔ اپنے اپنے حقوق سے لاتعلقی کے حوالے سے جتنی خاموشی پاکستان میں ہے اتنی خاموشی تو قبرستانوں میں بھی نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک دانشور دوست طنزیہ طور پر پاکستان کو کرہ ارض کا سب سے بڑا قبرستان کہتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں