آپ مر چکے یونین کونسلوں نے 70 ہزار شہریوں کو قبروں میں اتار دیا، شناختی کارڈ بلاک

ملتان (سہیل چوہدری سے) پنجاب کی یونین کونسلوں کے سیکرٹریز نے 70 ہزار زندہ لوگوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنا دیئے۔ نادرا نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک کر دیئے۔ شہری اپنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کینسل کروانے کے لیے یونین کونسلوں کے دھکے کھانے لگے۔ تفصیل کے مطابق ملتان سمیت پنجاب بھر کے اضلاع میں سیکرٹری یونین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایک ایک سیکرٹری کے پاس کئی یونین کونسلوں کا اضافی چارج دیا گیا ہے یونین کونسلوں کے سیکرٹریز نے اپنے دفاتر میں پرائیویٹ افراد غیر قانونی طور پر تعینات کر رکھے ہیں جو شہریوں کے برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں معلوم ہوا ہے کہ ملتان میں 3700 سمیت پنجاب بھر کے مختلف اضلاع کی یونین کونسلوں میں 70 ہزار افراد ایسے ہیں جو زندہ ہیں مگر یونین کونسلوں کے نااہل اور نا تجربہ کار عملے نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیئے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کی وجہ سے نادرا نے ان کے شناختی کارڈ بلاک کر دیئے۔متاثرہ افراد جب نادرا کے دفاتر گے اور ان سے معلوم کیا کہ ہمارا شناختی کارڈ کیوں بلاک کیا گیا ہے تو نادرا کے عملے نے انہیں کہا کہ آپ لوگ وفات پا گئے ہیں اس لیے آپ لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں اگر آپ لوگ زندہ ہیں تو جن یونین کونسلوں نے آپ لوگوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں وہاں سے اپنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کینسل کروائیں۔ اس کے بعد آپ کے شناختی کارڈ اوپن کیے جائیں گے جس وجہ سے ہزاروں افراد اپنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کینسل کروانے کے لیے یونین کونسلوں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کئی یونین کونسلوں کے سیکرٹریز ڈیتھ سرٹیفکیٹ کینسل کرنے کے لیے متاثرہ افراد سے ہزاروں روپے وصول کر رہے ہیں۔ شہری ذوالفقار علی نے نمائندہ قوم کو بتایا کہ میرا بیٹا الشفاء ہسپتال اسلام آباد میں ڈاکٹر ہے ۔یونین کونسل نمبر 41 کے سیکرٹری احمد حسن نے میرے بیٹے ڈاکٹر فیصل علی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جس وجہ سے نادرا نے اس کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا دو ماہ سے یونین کونسل کے دھکے کھانے کے بعد انھوں نے میرے بیٹے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ کینسل کیا ہے جب اس سلسلے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ حلیمہ سعدیہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ نادرا کے ساتھ پہلے لنکڈ نہیں تھا اس لیے جن لوگوں کے یونین کونسل ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھی ان کے ورثاء کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی کاپی نادرا آفس میں جمع کروانی چاہیے تھی وہ انھوں نے جمع نہیں کروائی جس وجہ سے نادرا نے ان کے شناختی کارڈ بلاک کر دیے البتہ کچھ کلیریکل مسٹیک کی وجہ سے زندہ لوگوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گئے تھے ان کو کینسل کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں