ترقی یافتہ ممالک میں معیاری بیج کی تیاری کو قومی صنعت کی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی فصل کی پیداوار میں کمی بیشی کا انحصار جن پیداواری عوامل پر ہوتا ہے۔ بیج کو ان میں بنیادی اہمیت حاصل ہے کیوں کہ اعلیٰ پیداوار کا دارومدار اچھے پودے پر اور اچھے پودے کا دارو مدار صحت مند بیج پر ہوتا ہے۔گندم کی ترقی دادہ اقسام کا خالص اور صحت مند بیج ہی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کاضامن ہے۔گندم یا کسی بھی دوسری فصل کے معیاری بیج میں درج ذیل خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ بیج کا بلحاظ قسم خالص ہونا اولین شرط ہے یعنی اس میں دیگر اقسام کا بیج شامل نہ ہو۔بیج جڑی بوٹیوں کے بیجوں سے مبرا ہو۔بیج تندرست، کیڑوں کی دست برد سے محفوظ اور تخمی بیماریوں کی آلائشوں سے پاک ہو۔بیج 85 سے90 فیصد اگاؤ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ شرح کم ہونے کی صورت میں شرح بیج فی ایکڑ میں اضافہ کر لینا چاہیے۔بیج صرف اسی قسم کا ہو جس کی سفارش محکمہ زراعت کی طرف سے کی گئی ہو۔پنجاب سیڈ کارپوریشن اور اس کے مقرر کردہ ڈپو نئی اور ترقی دادہ اقسام کا تصدیق شدہ بیج فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں لیکن مقدار میں کم ہونے کے باعث یہ بیج کاشتکاروں کی ضرورت کو بمشکل 15سے 20 فیصد تک ہی پورا کرتا ہے۔ اس لئے کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ فصل کی کاشت کے لئے مطلوبہ مقدار میں بیج خود تیار کریں۔ بیج کا خالص پن شک و شبہ سے بالا ہوگا۔ مطلوبہ قسم کا بیج مطلوبہ مقدار میں با آسانی دستیاب ہو گا۔خالص اور صحت مند بیج استعمال کرنے کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ ہو گا۔لاگت کم آئے گی۔آمدورفت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی کمی ہو گی۔ زیادہ مقدار میں معیاری بیج تیار کر کے اچھے داموں فروخت کیا جا سکے گا۔سب سے پہلے کھیت کے اس حصے کا انتخاب کیا جائے جس کے بیج کو آئندہ سال بوائی کے لئے استعمال کرنا ہو۔ اس میں سے تمام جڑی بوٹیاں اور غیر ضروری پودے نکال دیں۔ اس کے علاوہ ایسے تمام پودے جو رنگت، جسامت اور شکل و صورت میں اس کھیت میں کاشت کردہ قسم سے مختلف نظرآئیں باقاعدگی سے نکالتے رہیں۔ جب کٹائی کا وقت آ جائے تو اس کھیت یا کھیت کے منتخب حصے کو سب سے پہلے کاٹ لیا جائے اور چھوٹی بھریاں باندھ کر علیٰحدہ رکھ لیا جائے۔تھریشنگ کے وقت بھی اچھی طرح تسلی کر لی جائے کہ تھریشر میں پہلے سے سابقہ اقسام کے دانے موجود نہ ہوں۔ احتیاطاً جب مطلوبہ قسم کی گہائی شروع کی جائے تو شروع کے تقریباً 20 کلو دانے علیحدہ کر لئے جائیں اور باقی غلہ کو نئی بوریوں میں بھر کر باہر لیبل لگا دیں۔بوری کے اندر بھی تین لیبل ڈال دئیے جائیں تا کہ اگر باہر کا لیبل کسی وجہ سے ضائع ہو جائے تو اندرونی لیبل دیکھ کر پہچان کی جا سکے۔ذخیرہ کاری کے لئے اگر نئی بوریاں استعمال کی جائیں تو زیادہ بہتر ہے وگرنہ پرانی بوریوں کو الٹا کر کے اچھی طرح جھاڑ لیں۔ بیج سے بھری ہوئی ان بوریوں کو گودام میں احتیاط کے ساتھ علیٰحدہ رکھیں۔ غلہ کو دھوپ میں سکھانے کا عمل کیڑوں کے حملہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس عمل کے دوران یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ ایک قسم کا بیج دوسری قسم کے بیج کے نزدیک نہ سکھایا جائے۔ امید ہے کہ کاشتکار ان طریقوں پر عمل کر کے ذاتی استعمال کے لیے گندم کا معیاری بیج خود تیار کریں گے۔






