ملتان( روزنامہ قوم) محکمہ زراعت کا جعلی کھادوں کی تیاری و فروخت میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری۔ اسسٹنٹ فرٹیلائزر کنٹرولر اللہ رکھا سندھو نے بی سی جی چوک کے قریب پیر بخاری کالونی میں واقع جعلی کھاد فیکٹری پر چھاپہ مارکر 25 لاکھ روپے مالیت کی جعلی کھاد و میٹریل برآمد کرلیا اور موقع سے سینکڑوں پرنٹڈ، خالی بیگز و دیگر میٹریل بھی قبضہ میں لے لیا۔ ملزمان بغیر لائسنس و ریکارڈ کے جعلی کھاد تیار کررہے تھے۔ ملزمان جعلی ڈی اے پی، این پی، ایس ایس پی، سلطاش، پریمیئم گولڈ سمیت 5 قسم کی جعلی کھادیں تیار کرکے مختلف علاقوں میں فروخت کرتے تھے۔ چھاپہ کے نتیجہ میں موقع سے فرٹیلائزر کی سینکڑوں بوریاں برآمد کرلی گئیں جن کی مالیت 25 لاکھ روپے بنتی ہے۔ جعلی کھادیں بطور مال مقدمہ حوالہ پولیس کی گئیں اورخام مال موقع پر ہی پولیس کی زیر نگرانی تلف کردیا گیا جبکہ 1 ملزم اشرف کرناول کو موقع سے گرفتار کرلیا گیا۔ اسسٹنٹ فرٹیلائزر کنٹرولر کی مدعیت میں ملزم محمد اصغر کرناول (مالک) اور اشرف کرناول (بھائی) کیخلاف پنجاب فرٹیلائزر کنٹرول آرڈر کے تحت تھانہ ممتاز آباد میں ایف آئی آر کے اندارج کیلئے استغاثہ دائر کردیا گیا ہے۔ موقع پر کھاد کے نمونہ جات حاصل کرکے تجزیہ کیلئے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ جعلی زرعی مداخل فروخت کرنے والے مافیا کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جارہا ہے اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جارہی ہے۔ حکومت پنجاب جعلی زرعی مداخل کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرلینس پالیسی کے اصول پر عمل پیرا ہے اور اس کاروبار کی بیخ کنی کیلئے تمام ممکنہ کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں محکمہ زراعت ٹھوس شواہد کی بنا پر ملزمان کے خلاف ہر سطح پر اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔






