بہاولپور (بیورو رپورٹ) انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب اور پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کے سخت احکامات کے باوجود یزمان کے مختلف علاقوں میں مبینہ بھتہ مافیا سرگرم ہو گیا ہےجس نے قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔تفصیلات کے مطابق منڈی یزمان سے احمد پور شرقیہ جانے والی مرکزی شاہراہ پر ہیڈراجکاں اور اڈا 42 ہزار کے مقامات پر بھتہ مافیا نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہاں سے گزرنے والی ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ، جن میں ہائی ایس، بسیں، مزدا اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں، سے باقاعدگی کے ساتھ بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔ٹرانسپورٹرز کے مطابق بھتہ نہ دینے کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا جاتا ہے۔ اس خوف و ہراس کے ماحول کی وجہ سے متاثرہ افراد کھل کر شکایات درج کروانے سے بھی گریزاں ہیں۔ذرائع کے مطابق ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واحد علی واہلہ جو کہ سیکیورٹی برانچ پنجاب پولیس میں تعینات ہے، مبینہ طور پر اس بھتہ مافیا کی سرپرستی کر رہا ہے۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ مذکورہ اہلکار کی مبینہ پشت پناہی کے باعث یہ غیر قانونی سرگرمیاں بلا خوف و خطر جاری ہیں۔اہلیان علاقہ نے بالا پولیس افیسران سے سیکورٹی کانسٹیبل کی بابت شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاہم اس حوالے سے متعلقہ پولیس اہلکار کا مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے جو کہ مؤقف دینے سے انکاری ہے۔علاقہ مکینوں اور ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل خاموشی اور عدم کارروائی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔







