ڈیرہ : خوشحال خٹک ایکسپریس ڈیڑھ ماہ سے بند، سٹیشن ویران، مسافر پریشان

ڈیرہ غازی خان (ڈپٹی بیوروچیف)ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن ایک بار پھر ویرانی کا منظر پیش کرنے لگا ہے، جہاں چند ماہ قبل بحال کی جانے والی خوشحال خٹک ایکسپریس گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بند پڑی ہے۔ ٹرین سروس کی بندش کے باعث اسٹیشن پر سنسانی چھا گئی ہے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یاد رہے کہ 2019 میں کورونا وائرس کے باعث بند ہونے والی خوشحال خٹک ایکسپریس کو گزشتہ سال 2025 میں وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ایک باوقار تقریب کے ذریعے دوبارہ بحال کیا تھا۔ یہ ٹرین کراچی سے پشاور تک ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو، میانوالی، اٹک، کشمور، راجن پور، کندھ کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ اور حیدر آباد سمیت متعدد شہروں کو ملاتی تھی۔ تاہم ریلوے ذرائع کے مطابق چند ماہ کے اندر ہی ٹرین کی بوگیاں کم کر دی گئیں اور بالآخر سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر ریلوے کی جانب سے سستے اور آسان سفر کی فراہمی کے لیے کی جانے والی کوششیں ریلوے کے بعض نااہل اور کرپٹ عناصر کی وجہ سے ناکام ہو رہی ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر ٹرانسپورٹ مافیا کے ساتھ مل کر ٹرین سروس کو متاثر کیا۔اسی طرح موسیٰ پاک ایکسپریس شٹل ٹرین، جو ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو اور مظفرگڑھ کے درمیان چلائی گئی تھی، ابتدائی طور پر 5 بوگیوں پر مشتمل تھی اور مکمل طور پر بھر جاتی تھی۔ تاہم اب اسے کم کر کے صرف 2 بوگیوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات اور رش کا سامنا ہے۔ڈیرہ غازی خان، شادن لنڈ، کوٹ ادو اور مظفرگڑھ کے شہریوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر ریلوے حنیف عباسی، چیئرمین ریلوے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خوشحال خٹک ایکسپریس اور چلتن ایکسپریس کو فوری طور پر بحال کیا جائے، جبکہ موسیٰ پاک شٹل ٹرین کو دوبارہ مکمل 5 بوگیوں کے ساتھ چلایا جائے۔عوام نے مزید مطالبہ کیا کہ ریلوے اسٹیشنز پر تعینات نااہل افسران اور اسٹیشن ماسٹرز کو تبدیل کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ مافیا کے اثر و رسوخ کا خاتمہ ہو۔

شیئر کریں

:مزید خبریں