یزمان: انصاف ہار گیا، خالد ججہ، صدر بار طاقتور کے ساتھ، کمزور پٹھان صلح پر مجبور

ملتان ( کرائم سیل) چک نمبر 68 ڈی بی کڈ والہ میں غریب پٹھانوں کی بستی کو آگ لگانے کےمعاملے میں طاقت کے سامنے انصاف نے گھٹنے ٹیک د یئے اور کمزور کو بالآخر ظلم سہہ کر صلح کی میز پر بیٹھنا پڑا۔ چک نمبر 68 ڈی بی کڈ والہ میں جھونپڑیاں جلانے، تشدد اور بکریاں چوری کرنے والے طاقتور زمیندار کے خلاف انتظامیہ اور پولیس متاثرین کو انصاف نہ دلا سکی۔ ایم پی اے خالد ججہ، دلشاد ججہ اور صدر بار یزمان افتخار ججہ، ناصر تنویر سربراہ پنجاب ہیومن رائٹس جیسی بڑی شخصیات طاقتور کے ساتھ کھڑی ہو گئیں اور پٹھان خاندان تنہا رہ گیا تو مجبوراً انہیں صلح کرنی پڑی۔ چک نمبر 68 ڈی بی کڈ والہ میں جھونپڑیوں کو آگ لگانے، تشدد اور بکریاں چوری کے سنگین واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا۔ معروف قانون دان فاروق بشیر کی ثالثی میں دونوں پارٹیوں کے درمیان تحریری معاہدے کے تحت صلح کروا دی گئی۔ اس موقع پر ایم پی اے خالد ججہ، دلشاد ججہ، صدر بار یزمان افتخار ججہ سمیت پنجاب ہیومن رائٹس کے سربراہ ناصر تنویر بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ بہاولپور کی تحصیل یزمان کا دیہاتی علاقہ خصوصی طور پر چولستانی گاؤں ہمیشہ سے قبضہ مافیا غنڈہ عناصر کی اماجگاہ ہیں اور یہاں کے غنڈوں کو ہمیشہ سے ہی پشت بنائیاں حاصل ہیں۔ تحصیل یزمان کے یہ چکوک ایسے ہیں کہ یہاں ملک بھر سے لوگوں نے زمینیں خرید کر کر رکھی ہیں اور کاروبار کر رکھے ہیں یہ سب کے سب مسلمان ہیں جبکہ مہاجرین کے حوالے سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر یہاں غنڈہ عناصر نے شریف اور عزت سے سر چھپا کر رہنے والے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں۔ کبھی آباد کاروں کی بچیاں اغوا کر لی جاتی ہیں تو کبھی ان کے گھر گرا دیئے جاتے ہیں اور کبھی ان کی زمینوں پر کھڑی فصلیں قبضہ میں لے لی جاتی ہیں۔ طاقتور زمینداروں سے لے کر سیاستدانوں تک کے چہیتے اس ظلم میں ملوث ہیں ملوث ہیں حتیٰ کہ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی ان غنڈہ عناصر کے سامنے بے بس ہے۔ ایسے ہی ایک بڑے زمیندار کے کھیت میں بکری گھسنے کی گستاخی پر آباد کار پٹھان مہاجرین کی بستی کو آگ لگا دی گئی اور اس طرح محض ایک بکری کے تنازعہ پر انسانی بستی کے چند مکینوں کے گھر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔یہ ظلم ڈھانے والے شہباز باجوہ ایم پی اے خالد ججہ کے قریبی رشتہ دار ہیں اور یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ انہیں پٹھانوں پر تشدد مہنگا پڑ گیا پھر ججہ فیملی نے پٹھانوں سے مار بھی کھائی، سر عام معافی بھی مانگی اور آٹھ لاکھ روپیہ ہرجانہ دے کر صلح کی۔ یزمان کے علاقے چک نمبر 68 ڈی بی کڈ والہ بنگلہ کے قریب چار روز قبل یہ واقعہ پیش آیا۔ بااثر زمیندار شہباز باجوہ جو غنڈا عناصر کی سرپرستی کے حوالے سے منفرد شہرت رکھتے ہیں کا غریب پٹھان خاندانوں کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب مبینہ طور پر ایک بکری باجوہ فیملی کی فصل میں داخل ہو گئی تو شہباز باجوہ نے پٹھانوںکی بستی میں داخل ہو کر ان کی بوڑھی خاتون پر تشدد کیا اور اسے دھکے دیئے جس پر اس عورت سے کچھ بن نہ پڑا تو اس نےشہباز باجوہ کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا جس پر شہباز باجوہ نے ٹیلی فون کر کے اپنے بیٹوں محسن اور علی کو بلا لیا جو جیپ اور ٹریکٹر لے کر آئے اور انہوں نے چند گھر اٹریکٹر سے روند دیئے اور پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ بوڑھی ماں پر تشدد کا سن کر پٹھانوں کی دوسری بستی سے کے قبیلے کے لوگ آ گئے اور انہوں نے باجوئوں اور ججہ فیملی کے افرادکو لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مارا یہ پہلی مرتبہ ہوا ججہ فیملی اور باجووں کو سرعام ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی یزمان پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے کارروائی شروع کر دی ۔دوسری طرف پٹھان بھی بڑی تعداد میں جمع ہونے شروع ہو گئے ۔اندیشہ نقص امن کا خطرہ لاحق ہو گیا تو باجووں اور ججہ فیملی کے افرادنے سر عام پٹھانوں سے دو دن بعد معافی مانگ لی اور آٹھ لاکھ روپیہ ہرجانہ بھی ادا کیا اس دوران باجووں نے مقامی با اثر افراد کو ڈال کر پٹھانوں سے اپیل کی کہ صلح نامے میں آگ لگانے کا نہ لکھیں بلکہ یہ لکھیں کہ تیز ہوا کی وجہ سے شعلہ ابھرا اور آگ لگ گئی۔ یزمان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ باجووں اور ججوں کو کھلے عام نہ صرف معافی مانگنی پڑی بلکہ ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑا۔ تحصیل یزمان میں یہ واقعہ ٹاک آف دی ٹاؤن بنا ہوا ہے اور لوگ شکر ادا کر رہے ہیں کہ پہلی مرتبہ کسی نے ججہ فیملی اور باجووں کو اچھے طریقے سے سبق سکھایا کیونکہ انہوں نے علاقے میں ظلم کی انتہا کر رکھی تھی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں