ملتان ( کورٹ رپورٹر)ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جج جسٹس عاصم حفیظ نے ارسلان فلور اینڈ جنرل ملز اور فرحان کاٹن جننگ فیکٹری کلر والی ( جتوئی) کی رٹ پر سٹاک ضبط کرنے کے حکم کو منسوخ کردیا اور پٹیشنر کا لائسنس منسوخ کرنے اور مقدمہ درج کرنے سے متعلق تمام کارروائی روک دی ہے ۔ محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن پنجاب اورپیرا فورس کو فلور ملز سے گندم اٹھانے سے روک دیا ہے۔ پٹیشنر کے وکیل رانا آصف سعید نے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل عبدالغفار نے ارسلان فلور اینڈ جنرل ملز اور فرحان کاٹن جننگ کے نام سے دو فوڈ گرین لائسنس حاصل کئے ہوئے ہیں جن کے تحت اسے گندم خریدنے فروخت کرنے اور سٹاک کرنے کا اختیار حاصل ہے ان لائسنسوں کی تجدید 31 دسمبر 2026 تک ہو چکی ہے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فلور ملز کی گندم کی خریداری نافذ العمل قوانین سے متصادم نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محکمہ خوراک خود گندم کی خریداری کی پالیسی بنانے اور اس پر عملدرآمد کرانے میں یکسر ناکام رہا ہے۔ رانا آصف سعید نے کہا کہ انتظامیہ اور محکمہ خوراک اپنی من پسند پرائیویٹ کمپنیوں کو نوازنے کیلئے فلور ملوں سے جبراً گندم اٹھانے میں مصروف ہے۔اس طرح لائسنس یافتہ فلورملوں کا حق سلب کیا جارہاہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت تحفظ یافتہ افراد اور اداروں کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے اور اس طرح کرپشن کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ فوڈ سیفٹی اور انتظامیہ پہلے پٹیشنر کی گندم خریداری میں رکاوٹ ڈالتے رہے بعد ازاں وہ 2000 تھیلے زبردستی اٹھا کر لے گئے اور مزید بھی لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف حکومت پنجاب کےمقرر کردہ ایگریگیٹرز ہی گندم کی خریداری کر سکتے ہیں جو کہ انصاف، آئین اور قانون کے منافی ہے۔واضح رہے کہ روزنامہ قوم پہلے ہی یہ خبرشائع کرچکاہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے نامزد کی گئی 12 گندم سٹاک کرنے والی کمپنیوں کے لئے کاشت کاروں سے گندم کی خریداری مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ محکمہ خوراک کا عملہ زبردستی فلور ملوں سے ان کے خرید کردہ سٹاک کا 10 فیصد حصہ لیکر پرائیویٹ سٹاکسٹوں کو فراہم کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں فی ٹرالی سوا لاکھ روپے کا
نقصان ہو رہا ہے کیونکہ مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 4 ہزار روپے فی من سے اوپر جا چکا ہے جبکہ حکومت کے احکامات کے تحت پرائیویٹ کمپنیاں 3500 روپے کے حساب سے گندم خرید رہی ہے اور چار ہزار روپے والی گندم فلور مل مالکان ان پرائیویٹ سٹاکسٹوں کو 35 روپے فی من کے حساب سے دینے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں اور بعض مل مالکان اس صورتحال کے خلاف عدالتوں سے بھی رجوع کر چکے ہیں۔







