گورنر پنجاب کا بڑا فیصلہ، زکریا یونیورسٹی انجینئر کی برطرفی کالعدم قرار

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنر پنجاب نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق انجینئر کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گورنر پنجاب و چانسلر جامعات پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق یونیورسٹی انجینئر (الیکٹریکل) محمد رفیق کی اپیل منظورکرتے ہوئے ان کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ گورنر پنجاب نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی جانب سے عائد کی گئی “سروس سے برطرفی” کی سزا ختم کرتے ہوئے محمد رفیق کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم ان کی گزشتہ تین سالہ سروس ضبط کرنے کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔گورنر سیکرٹریٹ پنجاب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق محمد رفیق نے پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی ایکٹ (پیڈا) 2006 کے تحت سنڈیکیٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس کے ذریعے انہیں طویل غیر حاضری اور مبینہ بدانتظامی کے الزامات کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔اپیل کی سماعت کے دوران محمد رفیق نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف غیر حاضری کے الزامات حقائق کے منافی ہیں کیونکہ متعلقہ عرصے میں یونیورسٹی انتظامیہ انہیں مسلسل ملازم تصور کرتی رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مختلف اوقات میں این او سی، ڈیپوٹیشن، میڈیکل رخصت اور دیگر انتظامی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں جبکہ انہیں مختلف کمیٹیوں کا رکن بھی نامزد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ واقعی غیر حاضر ہوتے تو انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات ممکن نہ تھے۔دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے رجسٹرار نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد رفیق 2019 سے 2023 تک طویل عرصے تک بغیر اجازت غیر حاضر رہے اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی گئی۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کی مجموعی غیر حاضری ایک سال سے زائد بنتی تھی، جس کی بنیاد پر سخت تادیبی کارروائی ناگزیر تھی۔گورنر پنجاب نے دونوں فریقین کے دلائل اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت ملازمت سے برطرفی جیسی بڑی سزا کے لیے ایک سال سے زائد مسلسل غیر حاضری ثابت ہونا ضروری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف ادوار کی غیر مسلسل غیر حاضریوں کو یکجا کرکے ایک سال کی مدت پوری کی، جو قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ بعض معاملات میں بدانتظامی کے عناصر موجود ہو سکتے ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر سروس سے برطرفی جیسی بڑی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ چنانچہ سنڈیکیٹ کا 7 فروری 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد رفیق کو بحال کرنے کا حکم دیا گیا۔گورنر پنجاب نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ محمد رفیق کو فوری طور پر سروس میں بحال کیا جائے، تاہم ان کی سابقہ تین سالہ سروس ضبط تصور کی جائے گی، جو پیڈا ایکٹ کے تحت ایک کم تر بڑی سزا کے زمرے میں آتی ہے۔قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائیوں میں قانونی تقاضوں اور مناسب طریقہ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں