گندم کے پی، سندھ، بلوچستان سمگل، پنجاب میں قلت، حکومت جاگ گئی، عید کے بعد آپریشن

ملتان (سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب کی ناقص حکمت عملی اور بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے مختلف اضلاع کے انتظامی افسران اور محکمہ خوراک کے تبدیل شدہ انتظامی ڈھانچے سے منسلک افسران کی کھلے عام ملی بھگت سے جب پنجاب سے ہزاروں ٹرک گندم کے پی کے اور سندھ میں سندھ کے ذریعے بلوچستان پہنچا دی گئی تو حکومت پنجاب کو ہوش آیا اور اب عید کے بعد فلور مل مالکان اور گندم سٹاک کرنے والے کاشت کاروں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ پنجاب کے بارڈر پر گندم کے ٹرک کو کلیئر کرنے کا جو ریٹ مقرر تھا وہ 20 سے 25 ہزار روپیہ فی ٹرک تھا اور کھلے عام سرکاری مشینری یہ رشوت لیتی رہی۔ اس وقت حکومت پنجاب کو پتہ ہی نہ چلنے دیا گیا کہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور دوسری طرف حکومت پنجاب کا نیا فوڈ کا ادارہ کوئی فیصلہ ہی نہ کر سکا اور پنجاب بھر میں لاکھوں ٹن گندم سٹاک کرنے کے سرکاری گودام ہونے کے باوجود 12 نجی کمپنیوں کو گندم سٹاک کرنے کی اجازت دی گئی جو کاشت کار پر بہت بڑا ظلم ہے۔ جب کاشتکار وںنے مجبوری میں اپنی گندم 3100 سے00 34 روپےمن کے حساب سے فروخت کر دی اور ذخیرہ اندوزوں اور بڑے بڑے تاجروں نے یہ گندم خرید کر کے پی کے بلوچستان اور سندھ بھجوا کر کروڑوں روپیہ رشوت کی مد میں جمع کر لیا تب حکومت کو ہوش آیا اور اب عید کے بعد حکومت گرینڈ آپریشن کرنے جا رہی ہے۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی مصدقہ معلومات کے مطابق اس سال پنجاب میں گندم کی پیداوار میں 20 فیصد کمی رہی اور موسمی تغیر کی وجہ سے گندم کا دانے کے سائز اور موٹائی میں بھی کمی رہی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق محکمہ زراعت نے بھی اپنی رپورٹ میں گندم کی پیداوار اور سٹاک کے حوالے سے حکومت کو دھوکے میں رکھا اور پنجاب میں گزشتہ چار سال سے موجودہ سیکرٹری زراعت پنجاب اپنے عملے کو کنٹرول کرنے اور گندم کی صوبوں میں منتقلی کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ صورتحال یہ ہے کہ کراچی اور کوئٹہ میں گزشتہ روز گندم کا ریٹ00 44 روپے فی من تک پہنچ گیا جبکہ رحیم یار خان میں گندم 4100 روپے تک پہنچ چکی ہے اور بہاولپور میں 4150 روپے گندم اندر خانے فروخت ہوئی جبکہ خانیوال کا ریٹ چار ہزار روپے فی من رہا جو کہ سیکرٹری زراعت کا اپنا ضلع ہے۔ محکمہ زراعت نے حکومت پنجاب کوجو رپورٹ پیش کی اس کے مطابق دو کروڑ 20 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار دکھائی گئی مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ تو منڈیوں میں گندم موجود ہے اور منڈیاں خالی پڑی ہیں اور پرائیویٹ سٹاکسٹ نے مکمل طور پر گندم چھپا رکھی ہے جبکہ سرکاری عملہ جو گندم قبضے میں لے رہا ہے اس میں زبردستی چار کلو فی من کے حساب سے کٹوتی کر کے ایل ڈی سی نامی کمپنی کو فراہم کر رہا ہے جو کہ حکومت پنجاب کی منظور شدہ خریدار کمپنی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے سٹاک کے لیے گرین پاکستان انیشیٹوکے لیے بھی گندم پکڑی جا رہی ہے مگر ابھی تک سرکاری مشینری کو بری طرح ناکامی ہو رہی ہے۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ گندم کی فصل مارکیٹ میں آنے کے محض تین مہینے کے اندر اندر گندم کی قلت کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور جونہی کاشتکار نے اپنی گندم00 35 روپے سرکاری ریٹ کے بجائے 3100 سے 3300 روپے کے درمیان فروخت کر دی اور کراچی کی دو بہت بڑی پارٹیوں سمیت ملک بھر کے ذخیرہ اندوز گندم کے کاروبار کرنے والوں نے یہ گندم خرید کر دوسرے صوبوں میں پہنچا دی اب سرکاری مشینری کو ہوش آیا مگر اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا تھا۔ اب عید کے بعد ایک مرتبہ پھر حکومت کاشت کاروں سے ان کے سالانہ استعمال کے لیے رکھی گئی گندم بھی قبضہ میں لینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے کیونکہ صورتحال کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ انتظامیہ سمیت سرکاری عملہ جو گندم پکڑ رہا ہے اس کے عوض 35 سو روپے حساب سے پیسے دینے کے بجائے 4 کلو فی من کی کٹوتی کی جا رہی ہے اس فیصلے سے کاشتکار کو وہی تین ہزار سے 31 سو روپیہ ہی بمشکل ملے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں