ملتان (سٹاف رپورٹر) مری روڈ پر حادثے کے بعد ویگن کو آگ لگنے سے ملتان کے علاقے سوتری وٹ کی ایک ہی فیملی کے 10 افراد کی شہادت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ الدعا نامی کمپنی کی یہ گاڑی تھی۔ اس کے مالک کا نام ملک سہیل اور ڈرائیور کا نام مجاہد تھا۔ بتایا گیا ہے مجاہد چند گھنٹے پہلے ہی مری کا ٹور کر کے واپس آیا تھا اور وہ شدید قسم کی تھکاوٹ میں تھا اور اس کی نیند بھی پوری نہ ہوئی تھی۔ اس کی مالکان کے ساتھ اور دیگر ڈرائیوروں کے ساتھ اس بات پر باقاعدہ لڑائی بھی ہوئی کہ وہ تھکا ہوا ہے اور سفر کرنے کے قابل نہیں مگر اسے زبردستی بھیجا گیا اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ سارے راستے فون پر مالک اور ڈرائیوروں سے لڑتا رہا اور شدید غصے میں تھا۔ راستے میں دو جگہ پر گاڑی رکی تو حادثے کا شکار ہونے والے خاندان کے لوگوں نے اپنے ساتھ آنے والی کار میں سوار مرد حضرات کو اس بابت آگاہ بھی کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس ایسا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے پاس کوئی ایسا سسٹم ہے کہ وہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز اور ٹور کا انتظام کرے۔ گاڑیوں ڈرائیوروں کو چیک کر سکیں اور ان کے سفر کے اوقات کا جائزہ لے سکیں۔ روزنامہ قوم کو ایک ذریعے نے بتایا کہ بہت سے اس قسم کے ٹور آپریٹرز کے پاس گرمیوں کے سیزن میں جونہی سکولوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں مری جانے والوں کا رش بڑھ جاتا ہے اور تمام ٹور آپریٹرز کے پاس ڈرائیوروں کی کمی رہتی ہے اس لیے ڈرائیور حضرات کی نیند پوری نہیں ہوتی اور انہیں گاڑی چلاتے ہوئے نیند کے ہچکولے آتے ہیں۔ شہید ہونے والے خاندان کے افراد نے بتایا کہ ایک دو مرتبہ باقاعدہ گاڑی سڑک پر ان کے سامنے ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہوئی۔ بتایا گیا ہے اس حادثے کے بعد پرائیویٹ ٹور آپریٹرز اپنے دفتر بند کر کے بھاگ گئے ہیں اور ڈرائیور بھی ایک گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ ملتان میں بہت سے غیر رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز گرمیوں کے سیزن میں برساتی کھمبیوں کی طرح نمودار ہو جاتے ہیں اور ان کے لئے اسی لیے انتظامیہ کی طرف سے کسی قسم کا چیک نہیں ہوتا۔







