کیو ایس رینکنگ پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی، چند یونیورسٹیز سرخرو، بیشتر کی “حالت نازک”

ملتان (سٹاف رپورٹر) کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ 2026 نے ایک بار پھر پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی اصل تصویر دنیا کے سامنے رکھ دی ہے۔ایک ایسی تصویرجس میں چند روشن مثالیں ضرور موجود ہیں، مگر مجموعی منظر نامہ تشویشناک حد تک کمزور دکھائی دیتا ہے۔اس عالمی درجہ بندی میں چند پاکستانی جامعات نے اپنی محنت، وژن اور تحقیق پر مبنی حکمت عملی کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف پنجاب، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد ، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ ان اداروں کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مضبوط قیادت، تحقیق پر توجہ، بین الاقوامی روابط اور انڈسٹری کے ساتھ مؤثر اشتراک کے ذریعے عالمی معیار حاصل کیا جا سکتا ہے۔تاہم اس کامیابی کے برعکس ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کی اکثریتی جامعات یا تو اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنے میں ناکام رہیں یا معمولی حد تک ہی خود کو سنبھال سکیں، جبکہ کئی بڑی جامعات جن کے بجٹ اربوں روپے تک پہنچتے ہیں، ان کی کارکردگی بدترین تنزلی کا شکار ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ حکومتی پالیسی سازی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔یہ امر ملکی تعلیمی معیار، تحقیق کی گہرائی اور بین الاقوامی سطح پر روابط کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اس کمزور کارکردگی کی بنیادی وجوہات میں تحقیق کا فقدان، بین الاقوامی جرنلز میں محدود اشاعت، انڈسٹری کے ساتھ کمزور روابط، فرسودہ نصاب اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ میں سنگین خامیاں شامل ہیں۔ مزید برآں کئی جامعات محض ڈگریاں جاری کرنے والے ادارے بن کر رہ گئی ہیں، جہاں نہ تو تحقیق کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی جدید تقاضوں کے مطابق تدریس کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ تعلیمی حلقوں کی جانب سے Higher Education Commission of Pakistan پر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق ایچ ای سی کی ناقص پالیسی سازی، غیر مؤثر نگرانی، اور میرٹ کی مسلسل پامالی نے جامعات کو عالمی معیار سے بہت دور کر دیا ہے۔ الزام یہ بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں شفافیت کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کی جاتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر تعلیمی معیار پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ ترجیحات، وژن اور حکمتِ عملی کی ناکامی کا عکاس ہے۔ اربوں روپے کے بجٹ، بڑے منصوبوں اور دعووں کے باوجود اگر نتائج عالمی معیار کے مطابق نہیں آ رہے تو اس کا مطلب ہے کہ نظام میں بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت، صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی قیادت اور تعلیمی اداروں کو فوری اقدامات کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیق میں سرمایہ کاری، میرٹ پر مبنی تقرریاں، نصاب کی جدید کاری، اور بین الاقوامی اشتراکات کے فروغ کے بغیر پاکستان کی جامعات عالمی دوڑ میں کبھی شامل نہیں ہو سکتیں۔ آخر میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ معیشت، پالیسی سازی اور عالمی مسابقت کے دیگر شعبوں میں بھی مزید پیچھے رہ جائے گا۔ یہ وقت محض جائزہ لینے کا نہیں بلکہ فوری، سخت اور مؤثر اصلاحات کا ہے—ورنہ یہ تعلیمی بحران ایک بڑے قومی المیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انجینئرنگ اورٹیکنالوجی میںنسٹ نے عالمی سطح پرموجودگی کااحساس دلایا

ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی شہرت یافتہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ 2026 میں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی جامعات نے قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 132ویں پوزیشن حاصل کی اور ملک بھر میں اس شعبے میں سرفہرست رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی پاکستان میں انجینئرنگ تعلیم کے معیار میں بہتری کی عکاس ہے۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور (یو ای ٹی) نے 201ویں نمبر پر جگہ بنائی، جبکہ کامسیٹ یونیورسٹی اسلام آباد 221ویں نمبر کے ساتھ نمایاں رہی۔ دیگر نمایاں جامعات میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد 338 ویں نمبر پر رہی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی اور غلام اسحاق خان یونیورسٹی دونوں نے 401 سے 450 کی درجہ بندی میں اپنی جگہ بنائی۔ اسی طرح یونیورسٹی آف لاہور اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز بھی 451 سے 500 کے درمیان شامل ہو کر عالمی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کارکردگی حوصلہ افزا ہے، تاہم عالمی سطح پر مزید بہتری کے لیے تحقیق، انڈسٹری روابط اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی سرپرستی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی جامعات کو مزید آگے لایا جا سکتا ہے۔ اس رینکنگ میں دنیا بھر کی سرفہرست 300 یونیورسٹیوں میں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی صرف آٹھ جامعات ہی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابھی مزید محنت اور بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

عالمی درجہ بندی، کمپیوٹر سائنس میں بیشترجامعات کی کارکردگی ناقص

ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی شہرت یافتہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ 2026 (کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی) میں پاکستانی جامعات کی کارکردگی ایک بار پھر متضاد تصویر پیش کر رہی ہے، جہاں چند اداروں نے عالمی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا، وہیں بیشتر جامعات کی ناقص کارکردگی نے اعلیٰ تعلیم کے نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رینکنگ کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 114 ویں پوزیشن حاصل کی اور پاکستان میں اس شعبے میں سرفہرست رہی۔ اسی طرح کامسیٹس یونیورسٹی، اسلام آباد نے بھی بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 180 ویں نمبر پر جگہ بنائیں۔ دیگر پاکستانی جامعات میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور اور یونیورسٹی آف پنجاب 351 سے 400 کی درجہ بندی میں شامل رہیں، جبکہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور قائد اعظم یونیورسٹی 401 سے 450 کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔اسی طرح یونیورسٹی آف لاہور، بحریہ یونیورسٹی اور غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی 601 سے 650 میں شامل رہیں، جبکہ ایئر یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز 651 سے 700 کی فہرست میں آئیں۔ مزید برآں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز 701 سے 750 میں شامل رہی، جبکہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی 751 سے 850 کی درجہ بندی میں شامل رہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دنیا کی ٹاپ 300 یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی صرف دو جامعات — نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور کامسیٹس یونیورسٹی، اسلام آباد — ہی جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں، جو مجموعی تعلیمی صورتحال پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

بزنس اینڈمینجمنٹ سٹڈیزمیں بھی پاکستانی جامعات کی کارکردگی کی متضاد تصاویر پیش

ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی شہرت یافتہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ 2026 میں بزنس اینڈ مینجمنٹ اسٹڈیز کے شعبے میں پاکستانی جامعات کی کارکردگی نے ایک متضاد تصویر پیش کی ہے، جہاں چند اداروں نے عالمی سطح پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ملک کا نام روشن کیا، وہیں اکثریتی جامعات کی ناکامی نے نظام تعلیم پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رینکنگ کے مطابق لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 201 سے 250 کے رینج میں جگہ بنائی۔ اس کے بعد انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن نے 251 سے 300 کی درجہ بندی میں پاکستان کا نام روشن کیا، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد نے بھی 251 سے 300 میں اپنی شاندار پوزیشن برقرار رکھی۔ یہ جامعات اپنی قیادت، معیاری نصاب اور تحقیق پر بھرپور توجہ کے باعث عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ دوسری کامیاب جامعات میں کامسیٹس یونیورسٹی نے 351 سے 400 کی درجہ بندی میں اپنی جگہ بنائی، جبکہ یونیورسٹی آف لاہور اور یونیورسٹی آف پنجاب نے 401 سے 450 کے درمیان اپنی موجودگی ظاہر کی۔ مزید برآں قائد اعظم یونیورسٹی نے 451 سے 550 کی رینج میں کامیابی حاصل کی۔ یہ واضح مثالیں ہیں کہ جہاں معیاری تدریس، فیکلٹی کی مہارت اور تحقیق پر سرمایہ کاری کی گئی، وہاں یونیورسٹیاں عالمی معیار پر پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ تاہم باقی جامعات کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستان کی اکثریتی جامعات محض ڈگریاں جاری کرنے والے ادارے بن چکی ہیں۔ تحقیق میں کمی، بین الاقوامی معیار کی کمی، پرانا نصاب اور صنعت سے لاتعلقی ان کی ناکامی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ مزید برآں، میرٹ کے بجائے سفارش، غیر مؤثر انتظامی ڈھانچہ اور وژن کی کمی نے ان جامعات کو عالمی مقابلے میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ خصوصی نوٹ کے طور پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ دنیا کی ٹاپ 300 یونیورسٹیوں میں بزنس اینڈ مینجمنٹ اسٹڈیز کے شعبے میں پاکستان کی صرف چھ جامعات — لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، کامسیٹس یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور اور یونیورسٹی آف پنجاب ہی جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔ باقی جامعات معیار کے لحاظ سے شدید پیچھے رہ گئی ہیں، جو ملک کی مجموعی تعلیمی صورتحال کے لیے تشویشناک علامت ہے۔

اکائونٹنگ اینڈفنانس میں صرف ایک پاکستانی یونیورسٹی ٹاپ300میں جگہ بناسکی

ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی سطح پر جاری ہونے والی کیو ایس ورلڈیونیورسٹیز ریٹنگ 2026 کی درجہ بندی میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے، جہاں اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس کے شعبے میں صرف ایک ہی پاکستانی جامعہ ٹاپ 300 میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائینز (لمز) اس اہم شعبے میں دنیا کی پہلی 300 جامعات میں شامل ہونے والی واحد پاکستانی یونیورسٹی قرار پائی ہے، جسے ملک کے تعلیمی حلقوں میں ایک قابلِ ذکر مگر جزوی اور محدود سطح کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ رینکنگ کے اگلے درجے یعنی 301 سے 375 کے درمیان پاکستان کی چند جامعات شامل ہیں، جن میں کامسیٹ یونیورسئی اسلام آباد، انسٹیٹیوٹ اف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف لاہور شامل ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں