کیوں مجھے ملک سے نکالا گیا، کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا؟ قصور آپ کا بھی ہے، نواز شریف کا عوام سے شکوہ

گلگت: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچے، جہاں انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کی وہ خود نگرانی کریں گے اور ان کی تکمیل کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور اگر اس شعبے کو فروغ دیا جائے تو روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سی پیک کا اہم مرکز ہے، اس کے باوجود ماضی میں اس خطے کو نظر انداز کیا گیا، جس کا اندازہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی کمی سے لگایا جا سکتا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ چاہے عوام انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں، وہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے بات کریں گے۔ انہوں نے طلبہ کے لیے مزید اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے علاقے میں طویل لوڈشیڈنگ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 20،20 گھنٹے بجلی کی بندش کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو وہ باقاعدگی سے گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا خود جائزہ لیں گے۔
اپنے خطاب میں نواز شریف نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ 2017 میں این ایف سی سے متعلق ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد انہیں اقتدار سے الگ کر دیا گیا، جس کے باعث کئی اہم منصوبے مکمل نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کئی بار ملک سے باہر بھیجا گیا اور جیلوں میں رکھا گیا، اور عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہونے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں متعدد منصوبے شروع تو کیے گئے لیکن مکمل نہیں ہو سکے، جبکہ سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی حالت دیکھ کر انہیں افسوس ہوا۔ ان کے مطابق اگر ان کی حکومت برقرار رہتی تو کئی ترقیاتی منصوبے آج مکمل ہو چکے ہوتے۔
نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے علاقے میں اسپتال، ہائیڈل پاور منصوبے اور دیگر ترقیاتی اسکیمیں شروع کیں، جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 2015 میں 100 ارب روپے بھی فراہم کیے گئے تھے، مگر منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔
اس موقع پر وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، مریم اورنگزیب سمیت دیگر مسلم لیگ (ن) کے رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں