کوٹ ادو: زرعی گریجویٹس کیلئے مختص 5 ہزار کنال اراضی سیاسی سفارشوں پر الاٹ، حکومتی آمدن صفر

کوٹ ادو (نامہ نگار) صوبائی گورنمنٹ کی پانچ ہزار کینال اراضی پر ناجائز قابضین کا قبضہ، زرعی گریجویٹس کے لیےحکومت کی طرف سے مختص کی گئی اراضی بھی محکمہ مال کی ملی بھگت سے سیاسی سفارشوں پر غیر مستحق من پسند افراد کو الاٹ کر دی گئی، مبینہ طور پر کئی سالوں سے ان الاٹیوں سے کوئی تاوان وصول نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں تفصیل کے مطابق کوٹ ادو میں درجنوں مواضعات میں صوبائی گورنمنٹ کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر ناجائز قابضین قابض ہیں، قابضین برسوں سے اراضی کی پیداوار کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ مبینہ طور پر اس اراضی سے ہونے والی سالانہ آمدن کا مخصوص حصہ سرکاری خزانے میں جمع نہیں کروایا جاتا، اس طرح سالوں سے صوبائی گورنمنٹ کی اراضی پر قابض قابضین ہر سال زمین سے آمدن اور پیداوار گھر لے جاتے ہیں جس سے ہر سال محکمہ ریونیو کی مبینہ غفلت سے گورنمنٹ کو سالانہ کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کوٹ ادو کے موضع رکھ پتل میں صوبائی گورنمنٹ کی محکمہ ریونیو کی جمعبندی کے مطابق پانچ ہزار کینال اراضی پر مبینہ طور پر ناجائز قابضین قابض ہیں، محکمہ ریونیو کے ریکارڈ میں کوئی ایسا ریکارڈ موجود نہیں ہے جس سے پتہ چلتا ہو کہ یہ اراضی گورنمنٹ کی کون سی، کس سال کی اور کس سکیم کے تحت الاٹ کی گئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ مال کے افسران کی ملی بھگت سے من پسند افراد کو فرضی ناموں سے بھی الاٹ کی گئی ہیں، اس موضع میں زیادہ تعداد میں وہ افراد سرکاری زمینوں پر قابض ہیں جن کے پاس اپنی موروثی زمینیں موجود ہیں جبکہ صوبائی گورنمنٹ کی یہ اراضی بے زمین افراد کے لیے مختص ہوتی ہے، محکمہ مال کے افسران نے زرعی گریجویٹس کے لیے صوبائی گورنمنٹ کی طرف سے مختص کی گئی اراضی بھی سیاسی سفارش اور من پسند افراد کو الاٹ کر دی ہیں۔ اور برسوں سے سالانہ پیداوار گھر لے جاتے ہیں، یہ ناجائز قابضین سرکاری خزانے میں تاوان جمع نہ کروا کر ہر سال کروڑوں روپے کا نقصان گورنمنٹ کو پہنچا رہے ہیں۔ کمشنر ڈیرہ غازی خان اور ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو غیر جانبدارانہ تحقیقات کرا کر سرکاری اراضی ناجائز قابضین سے واگزار کرائیں تو سالانہ کروڑوں کا ریونیو قومی خزانے میں جمع ہو سکتا ہے جبکہ سینکڑوں بے زمین مستحق افراد کو اراضی الاٹ ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں