کوئٹہ (بیورورپورٹ)بلوچستان میں ٹرین کے قریب دھماکہ،30افرادشہید،50سے زائدزخمی ہوگئے۔تفصیل کے مطابق صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار نے بتایا کہ مسافر ٹرین کے قریب دھماکے میں کم از کم 30 افرادشہید جبکہ 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔ شہدامیں سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ دھماکے سے ٹرین کی متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ آواز شہر بھر میں سنی گئی جبکہ قرب و جوار میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹڑی سے اتر گئیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پھاٹک کے قریب پہلے سے ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی لیکن جیسے ہی ٹرین پھاٹک کے قریب پہنچی تو اس دوران دھماکا ہوگیا جس کے باعث ٹرین کے انجن کو بھی شدید نقصان پہنچا۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق دھماکے میں شہادتوں کی تعداد 14 ہوگئی، شہداء میں ایف سی کے 3 جوان بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔شاہد رند کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا، حملہ امن دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی ہے، عوامی مقامات کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔سول ہسپتال ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ریلوے حکام کے مطابق ٹرین گزرتے وقت ہوا ہے، ٹرین میں سوار مسافر عید کے چھٹیاں منانے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا، امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئیں۔ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر آگ بھی لگی، فائر بریگیڈ کے عملے آگ بجھا دی۔معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق دھماکے میں شہادتوں کی تعداد 14 ہوگئی، شہداء میں ایف سی کے 3 جوان بھی شامل ہیں۔سول اسپتال ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔معاون خصوصی برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ واقعے کی معلومات حاصل کر رہے ہیں، جیسے ہی مزید تفصیلات ملیں گی میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا، تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی سمیت دیگر وزراء اور سیاسی رہنماوں نے دھماکے کی مذمت کی۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ بزدلانہ دہشت گردی، ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر درندگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ٹرین دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔بعدازاںوفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں آئی جی بلوچستان پولیس نے کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔اجلاس میں معصوم لوگوں پر بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کی گئی اور شہداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت دکھ کی گھڑی میں بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، درندوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر بدترین سفاکیت کا مظاہرہ کیا۔ شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، زخمیوں کے بہتر علاج معالجے کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔آئی جی بلوچستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔
علیحدگی پسند کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔







