ملتان (وقائع نگار) سرگودھا کسٹم میں مبینہ بڑی کرپشن اسکینڈل ڈپٹی کلکٹر ڈاکٹر ذوہیب سمیت افسران پر کروڑوں روپے کے سگریٹ، چھالیہ، ٹائرز اور آئی فونز ناجائز فروخت کا الزام، وزیراعظم شہباز شریف کو ایک تحریری درخواست بھیجی گئی ہے جس میں سرگودھا کسٹم کلکٹریٹ (جس میں 2024 کے دوران ڈیرہ غازی خان بھی شامل تھا) میں مبینہ منظم کرپشن اور سرکاری گودام کے سامان کی ناجائز فروخت کا الزام لگایا گیا ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کلکٹر کسٹم ڈاکٹر ذوہیب نے اپنے دو اہلکاروں سپرنٹنڈنٹ عزیز الرحمان اور انسپکٹر حاجی محمد کے ذریعے گودام سے کروڑوں روپے مالیت کا سامان (سگریٹ، چھالیہ، ٹائر، آئی فونز اور دیگر اشیاء) فروخت کرایا۔ذرائع کے مطابق 2024 کے دوران ڈیرہ غازی خان کی چوٹی مل میں واقع کسٹم گودام سے یہ سامان مسلسل باہر نکالا جاتا رہا۔ الزام ہے کہ ڈپٹی کلکٹر ڈاکٹر ذوہیب نے تین پرائیویٹ افراد کو اس کام کے لیے استعمال کیا:عبداللہ گودام کی چابیاں اس کے پاس تھیں۔ وہ سامان نکال کر گاڑیوں میں لوڈ کرواتا تھا۔کمچی ڈرائیور، لوڈ کیا ہوا سامان متعلقہ پارٹیوں تک پہنچاتا تھا۔داؤد خان ایرانی ڈیزل والی گاڑیوں کا ڈیزل فروخت کرتا تھا۔ خالی گاڑیاں پیسے لے کر چھوڑ دی جاتی تھیں، جبکہ پیسے نہ دینے والوں کے خلاف کیس بنا دیا جاتا تھا۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ متعدد بار اس وقت کے کلکٹر کو شکایات کی گئیں مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ الٹامبینہ لوٹ مار کو چھپانے کے لیے 26 جنوری (انٹرنیشنل کسٹمز ڈے) سے پہلے ہی ممنوعہ سامان (سگریٹ، چھالیہ، منشیات اور شراب) کی ڈسٹرکشن کے آرڈر جاری کر دیے گئے تاکہ فروخت شدہ مال پر پردہ پڑ جائے۔ ضابطے کے مطابق یہ ڈسٹرکشن صرف 26 جنوری کو کی جانی چاہیے تھی۔ ڈاکٹر ذوہیب نے قاسم اور عنایت نامی دو پرائیویٹ افراد کے ذریعے ایرانی ڈیزل سمگلرز کی گاڑیاں مختلف چیک پوسٹوں سے کراس کروائیں۔ 29 مئی 2024 کو ایک باؤزر حاجی عبدالعلی کوئٹہ کا سرائے مہاجر (ضلع بھکر) میں انسپکٹر فہیم ظفر نے روکا۔ قاسم سرکاری ڈالہ LEG-17-911 پر بیٹھا تھا جبکہ عنایت باؤزر میں تھا۔ انسپکٹر فہیم نے دونوں کو گرفتار کیا تو ڈاکٹر ذوہیب خود موقع پر پہنچے اور دھمکیاں دے کر باؤزر چھڑوانے کی کوشش کی۔ اس واقعے پر ڈاکٹر ذوہیب اور اس وقت کے ڈپٹی کلکٹر ڈاکٹر جہانگیر کے درمیان تلخی ہوئی۔ بعد ازاں دونوں کارندوں کو کلکٹر نے چھڑوا لیا۔ڈاکٹر جہانگیر اس وقت کسٹم انٹیلیجنس کراچی جبکہ انسپکٹر فہیم ظفر ایئرپورٹ کلکٹریٹ لاہور میں تعینات ہیں بعد میں کلکٹر کا تبادلہ ہوا۔ کلکٹر اپیل لاہور نے اپنے ایک آرڈر میں مشاہدہ دیا کہ ڈاکٹر ذوہیب، عزیز الرحمن اور حاجی محمد نے ناجائز طور پر کچھ ٹرک چھوڑ دیے تھے۔ اس پر انکوائری شروع ہوئی اور ایڈیشنل کلکٹر اطہر نوید کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا۔ انکوائری کچھ عرصہ چلی مگر خاموشی سے ختم کر دی گئی۔ممنوعہ اشیاء کی خرد برد چھپانے کے لیے پہلے قبل از وقت ڈسٹرکشن کی گئی اور باقی مالیت کے سامان کو چھپانے کے لیے خود ساختہ ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا گیا۔ تھانہ گدائی ڈیرہ غازی خان میں FIR نمبر 1097/24 درج کروائی گئی۔ ایڈیشنل کلکٹر نے خود DPO ڈیرہ غازی خان سے مل کر جیو فینسنگ کروائے جانے پر زور دیا مگر کبھی نہ کروائی گئی۔ آج تک نہ کوئی گرفتاری ہوئی، نہ سامان برآمد ہوا اور کیس تقریباً ختم کر دیا گیا۔درخواست گزار نے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری انکوائری اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسٹم محکمے میں پھیلے اس مبینہ کرپشن کا خاتمہ ہو سکے۔







