ملتان (وقائع نگار)پاکستان کسٹمز میں مبینہ اقربا پروری اور اسمگلروں کی سہولت کاری کا انکشاف، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات پاکستان کسٹمز کے بعض افسران پر مبینہ طور پر اقربا پروری اور اسمگلروں کی سہولت کاری کے الزامات سامنے آ گئے ہیں، جبکہ ماتحت عملے کے خلاف کارروائی اور اعلیٰ افسران کو بچانے کے الزامات نے محکمہ میں ہلچل مچا دی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی کلکٹر کسٹم انٹیلیجنس قراۃ العین کے ایک قریبی رشتہ دار کو علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر غیر ملکی شراب کے ساتھ پکڑا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسسٹنٹ کلکٹر امیر حمزہ کی ہدایت پر سپرنٹنڈنٹ خالد صدیقی نے مذکورہ شخص کو شراب سمیت حراست میں لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ڈپٹی کلکٹر قرۃ العین شدید برہم ہو گئیں اور انہوں نے کسٹمز کے ایک اعلیٰ افسر سے رابطہ کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر ان کے رشتہ دار کو شراب سمیت ایئرپورٹ سے جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ کارروائی کرنے والے سپرنٹنڈنٹ خالد صدیقی کو معطل کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق چند روز بعد ایک اور واقعے میں اسسٹنٹ کلکٹر امیر حمزہ کے مبینہ تعلق دار مختلف اسمگل شدہ سامان اور شراب کے ساتھ لاہور ایئرپورٹ پر پکڑے گئے۔ الزام ہے کہ اس مرتبہ سپرنٹنڈنٹ مسعود صدیقی نے اسسٹنٹ کلکٹر کی ہدایت پر ملزمان کو سامان سمیت چھوڑ دیا۔اس معاملے پر ڈپٹی کلکٹر کسٹم انٹیلیجنس کی جانب سے اعلیٰ حکام کو شکایت ارسال کی گئی، جس کے بعد مبینہ طور پر سپرنٹنڈنٹ مسعود صدیقی، کسٹم انسپکٹر احمد فرحان اور کانسٹیبلز انیس اور عمر جاوید کو آف ڈیوٹی کر دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حیران کن طور پر مبینہ سہولت کاری کے الزامات کا سامنا کرنے والے اعلیٰ افسران، یعنی ڈپٹی کلکٹر قرات العین اور اسسٹنٹ کلکٹر امیر حمزہ کے خلاف تاحال کوئی محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس پر محکمہ کے اندر اور عوامی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ ادارے کی ساکھ بحال ہو سکے۔







