ملتان (وقائع نگار)کسٹمز اور ایف بی آر افسران نے پکڑی ہوئی لگژری گاڑیاں بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو گفٹ کر دیں ۔وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور کسٹمز کے افسران پر ایک اور کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا ہے، جس میں پکڑی گئی متعدد قیمتی لگژری گاڑیاں اعلیٰ بیوروکریٹس اور سیاسی شخصیات کو’’تحفے‘‘ کے طور پر دی گئیں۔ یہ انکشاف ایک اندرونی تفتیشی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جو اس برس جولائی میں کھلی ہونے والے اربوں روپوں کے سمگلنگ سکینڈل کا توسیعی حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق کم از کم 50 سے زائد گاڑیاںجن کی مجموعی مالیت 5 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، غیر قانونی طور پر’’آکشن‘‘ کی آڑ میں چھوڑ دی گئیں اور انہیں طاقتور شخصیات کو سونپ دیا گیا۔تفتیشی رپورٹ جو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریفارمز اینڈ آٹومیشن (کسٹمز) کراچی نے ایف بی آر کو جمع کرائی، بتاتی ہے کہ کسٹمز افسران نے ویب او سی (WeBOC) سسٹم میں جعلی انٹریز درج کرکے سمگل شدہ یا نان ڈیوٹی پیڈ (NDP) گاڑیوں کو’’ نیلامی شدہ‘‘ قرار دے دیا۔ ان میں سے کچھ گاڑیاں براہ راست مارکیٹ میں بیچ دی گئیں جبکہ دیگر کو اعلیٰ حکام کو’’ہاتھوں ہاتھ‘‘ دے دیا گیا تاکہ انہیں قانونی طور پر صوبائی ایکسائز میں رجسٹر کروایا جا سکے۔ رپورٹ میں مراسلہ کرنے والے افسران جن میں اسسٹنٹ کلکٹر اور ڈپٹی کلکٹرز شامل ہیںکی نشاندہی کی گئی ہے، اور ان کا تعلق کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان کے متعدد کسٹمز کلیکٹرٹس سے ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ گفٹنگ کا عمل 2024 سے جاری تھا، جب ٹیمپرڈ گاڑیوں کو سرکاری افسران کو معمولی قیمتوں پر سونپا جاتا رہا۔ ایک سابق کسٹمز سپرنٹنڈنٹ ملک طارق محمود کی درخواست پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ایف بی آر کو ان گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جنہیں مختلف سرکاری محکموں کے افسران کو دیا گیا۔ اب نئی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس فہرست میں کئی سیاسی رہنما اور ان کے خاندان بھی شامل ہیں، جنہیں مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو اور لیمبورگینی جیسی لگژری گاڑیاں تحفہ کے طور پر ملیں۔ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹ کا نام تو اندرونی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے جو اب مرکزی تفتیش کا حصہ بن چکا ہے۔ایف بی آر کے ایک سینئر افسر نے بتایا یہ صرف چند افسران کی کارروائی نہیںبلکہ ایک منظم نیٹ ورک ہے جو طاقتور لوگوں تک جڑا ہوا ہے۔ گاڑیاں پکڑی جاتی تھیں، پھر جعلی دستاویزات بنا کر انہیں آزاد کر دیا جاتا تھا۔ کچھ تو براہ راست گفٹ کی گئیں تاکہ سیاسی حمایت حاصل کی جائے۔” اس سکینڈل کی مالیت اربوں روپوں میں ہے، جو قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔جولائی 2025 میں اس سکینڈل کا آغاز ہوا جب کسٹمز کی اندرونی تفتیش نے 1900 سے زائد NDP گاڑیوں کا جائزہ لیاجس میں 350 لگژری گاڑیاں غیر قانونی طور پر آکشن شدہ پائی گئیں۔ ایف بی آر نے اب تک 7 ایف آئی آرز درج کی ہیں اور 13 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں کئی کسٹمز افسران شامل ہیں۔ ایک خاتون ڈپٹی کلکٹر کو معطل کر دیا گیا ہےجبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے 28 اگست 2025 کو ابتدائی ایف آئی آر درج کی تھی اور اب یہ کیس نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) کے دائرہ کار میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کی سربراہی فنانس سیکریٹری کر رہے ہیں۔ ایک سرکاری ترجمان نے کہاایف بی آر کرپشن کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام ملزمان کو سزا دی جائے گی، چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔







