ڈیرہ غازیخان،تونسہ شریف (ڈسٹرکٹ رپورٹر، نمائندہ قوم ) پولیس چیک پوسٹ عمر فاروق وہوا پر خودکش حملہ ناکام، سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک، پنجاب پولیس کے 2 اہلکار جامِ شہادت نوش کرگئےتفصیل کے مطابق دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی، شدید دھماکے کے نتیجے میں گیٹ اور حفاظتی دیوار کو نقصان پہنچا دھماکے کی شدت سے قریبی آبادی لرز اٹھی، کئی کچے مکانات متاثر، بعض شہری زخمی ہونے کی اطلاعات ابتدائی طور پر متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، بعد ازاں دو اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق ہوئی پولیس کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے، علاقے میں سرچ آپریشن اور کلیئرنس آپریشن جاری سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے، مزید تحقیقات جاری ہیںوطن کی مٹی پر قربان ہونے والے بہادر سپوت غلام عباس سکھانی اورمدثر نامی ایلیٹ اہلکارشہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے۔غلام عباس سکھانی کا تعلق نتکانی کے قریب پنجگرائیں، بستی سکھانی سے تھا۔ وہ وائرلیس آپریٹر مشتاق خان سکھانی کے صاحبزادے تھے اور جھنگی چیک پوسٹ پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ آج دہشت گردوں کے بزدلانہ خودکش حملے میں انہوں نے اپنی جان وطن عزیز پر نچھاور کر دی اور جامِ شہادت نوش کیا۔شہید غلام عباس سکھانی نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر ثابت کر دیا کہ وطن کی حفاظت کرنے والے بہادر سپوت ہر قربانی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ان کی یہ عظیم قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایک زخمی اہلکار حنیف کا تعلق ضلع لیہ سے بتایا جاتا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کے علاج معالجے کا سلسلہ جاری ہے۔واقعے کے فوراً بعد پولیس، سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر کے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ماہرین نے بھی موقع کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق حملے کی نوعیت، حملہ آور کی شناخت اور اس کے ممکنہ سہولت کاروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی ہے۔ قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر یا ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی اور علاقے کے امن کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔مقامی عوام اور سماجی حلقوں نے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔







