ڈیرہ: شادی سے انکار پر نرسنگ طالبہ قتل، نوجوان زخمی، ملزم کی سر میں گولی مار کر خود کُشی

ڈیرہ غازی خان(ڈ سٹرکٹ رپورٹر ،خبرنگار ) ڈیرہ غازی خان کے علاقے شاہ صدر دین، اڈا میاں ابراہیم میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں مبینہ طور پر شادی سے انکار پر نرسنگ کی طالبہ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا جبکہ ملزم نے واردات کے فوراً بعد خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ واقعے کے دوران ایک نوجوان طالبہ کو بچانے کی کوشش میں زخمی بھی ہو گیا۔پولیس کے مطابق نرسنگ کی طالبہ معمول کے مطابق اڈا میاں ابراہیم میں گاڑی کا انتظار کر رہی تھی کہ اسی دوران کار سوار نوجوان تنویر موقع پر پہنچا۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے آتے ہی طالبہ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ فائرنگ کے دوران ریاض جروار نامی نوجوان طالبہ کو بچانے کے لیے آگے بڑھاتاہم ملزم نے اسے بھی نشانہ بنایا اور گولی مار کر زخمی کر دیا۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد ملزم تنویر نے خود کو بھی سر میں گولی مار لی جس کے باعث وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ شاہ صدر دین کے ایس ایچ او عمران خالد پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔پولیس نے مقتولہ اور ملزم کی لاشیں اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیں۔ فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعے کی وجہ شادی سے انکار بتائی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اور مقتولہ کے درمیان پہلے سے جان پہچان ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیںتاہم واقعے کے اصل محرکات اور پس منظر کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے اور ملزم کے اہل خانہ سمیت دیگر متعلقہ افراد سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ اہل علاقہ اور سماجی حلقوں نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اور ایسے سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل میں برداشت اور رواداری کے فروغ کے لیے معاشرتی سطح پر آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت ہے تاکہ ذاتی رنجشوں اور یکطرفہ فیصلوں کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی، جبکہ تمام قانونی کارروائی میرٹ پر جاری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں