ڈیرہ سکول حادثہ، اے ای اواورڈی ڈی ای اوکی معطلیاں سوالات کی زد میں

ڈیرہ غازی خان(ڈسٹرکٹ رپورٹر ) لٹل اسکالرز گرلز ہائی سکول میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے کے بعد محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے کی گئی معطلیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ سیکرٹری پنجاب ایجوکیشن کی ہدایت پر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر مرکز صدر (ساؤتھ) فیاض حسین اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تحصیل ڈیرہ غازی خان جمعہ خان لغاری کو معطل کر دیا گیا، تاہم تعلیمی و سماجی حلقے اس کارروائی کو قواعد و ضوابط کے برعکس قرار دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق لٹل اسکالرز بطور گرلز ہائی سکول رجسٹرڈ ادارہ ہے، جس کی نگرانی اور انتظامی معاملات قانونی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ہائی سکولز) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اس کے برعکس معطل کیے گئے افسران کا دائرہ اختیار بنیادی طور پر پرائمری اور مڈل سطح کے سکولوں تک محدود بتایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم کی حالیہ کارروائی کو کئی حلقوں نے غیر منطقی اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ہائی سکول میں غفلت یا انتظامی کوتاہی سامنے آئے تو ذمہ داری ان افسران پر عائد ہوتی ہے جو متعلقہ ادارے کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہوں۔ ان کے مطابق ایسے افسران کو معطل کرنا جو ادارے کے انتظامی ڈھانچے میں براہِ راست شامل ہی نہیں، محکمانہ شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ محکمہ تعلیم میں مردانہ اور زنانہ ونگز الگ الگ نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ چونکہ معاملہ ایک گرلز سکول کا ہے، اس لیے کارروائی خواتین ونگ کے متعلقہ افسران کے خلاف ہونی چاہیے تھی، مگر اس کے برعکس مردانہ ونگ سے تعلق رکھنے والے افسر کو معطل کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے مقامی سماجی شخصیات اور والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے تاکہ اصل ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلے نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے بلکہ محکمہ تعلیم کے اندر بے چینی اور بداعتمادی کو بھی جنم دیتے ہیں۔شہری و تعلیمی حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ منظر عام پر لائی جائے اور ذمہ داری کا تعین حقائق اور قواعد کے مطابق کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اصل ذمہ داران کے بجائے دیگر افسران کے خلاف کارروائی کی گئی تو اس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملے گا بلکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام بھی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں