ڈیرہ غازیخان (خبر نگار) سانحہ لٹل سکالرز سکول کے شہید بچوں اور زخمی طلبہ کے ورثا و لواحقین کے بیانات قلمبند کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا، جبکہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے چاروں بچوں کے والدین کو باقاعدہ طور پر مقدمے میں شریک کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے انتظامیہ اور پولیس حکام سے مذاکرات کے بعد اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق مقامی ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی کی کوششوں سے سانحہ لٹل سکالرز سکول میں شہید ہونے والے بچوں محمد عبداللہ، غانیہ کاشف، مائیسون فاطمہ اور دعا فاطمہ کے والدین، قریبی عزیزوں اور علاقائی معززین کے درمیان طویل مشاورتی نشست منعقد ہوئی۔ کامیاب مذاکرات کے بعد ایک وفد نے ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور ڈی پی او محمد صادق بلوچ سے ملاقات کی، جہاں متاثرہ خاندانوں نے اپنے تحفظات اور مطالبات تفصیل سے پیش کیے۔ملاقات کے دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے ورثا کو یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی، جبکہ تمام ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کی یقین دہانی پر والدین نے پولیس کی تفتیش پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دفعہ 161 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرانے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی نے اس موقع پر کہا کہ لٹل سکالرز سکول کا واقعہ ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش سانحہ ہے، جس نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثے میں جس کسی کی بھی غفلت یا کوتاہی سامنے آئی، اس کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے نکات پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، زخمی بچوں کے میڈیکل پراسیس جاری ہیں جبکہ جاں بحق بچوں کے والدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ تفتیش کو مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔دریں اثناء پولیس ذرائع کے مطابق لٹل سکالرز سکول کے فرار پرنسپل کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں متحرک ہیں اور متعدد مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔







