ڈیرہ غازیخان (خبرنگار)ڈیرہ غازیخان میں لٹل سکالرز سکول سانحے کے بعد تعلیمی اداروں کی عمارتوں اور انتظامی ڈھانچے پر پہلے سے زیادہ سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ سوال اب صرف ایک سکول تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے تعلیمی نظام کی فزیکل سیفٹی، مانیٹرنگ اور گورننس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اسی تناظر میں ڈویژنل پبلک سکول اینڈ کالج (ڈی پی ایس) کے حوالے سے سامنے آنے والی صورتحال نے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔مقامی سطح سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈی پی ایس کے اولڈ بلاک، خصوصاً علی بلاک اور عثمان بلاک کی عمارتوں کی حالت تسلی بخش نہیں بتائی جا رہی۔ دیواروں پر نمایاں کریکس، بعض حصوں میں چھتوں کی کمزوری اور مجموعی طور پر انفراسٹرکچر کی خستہ حالی ایسے اشارے دے رہی ہے جنہیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ادارے کی مکمل فزیکل انسپکشن کی جائے اور ماہر انجینئرنگ ٹیم کے ذریعے اس کی ساختی جانچ (structural audit) کروائی جائے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ والدین کو بطور وزیٹر اسکول میں رسائی حاصل نہیں، جس کی وجہ سے شفافیت اور اعتماد کا خلا مزید بڑھ جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں والدین کی محدود رسائی بعض اوقات سیکیورٹی یا انتظامی وجوہات کی بنیاد پر ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی نگرانی اور شفافیت کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے جائیں۔اطلاعات کے مطابق ڈویژنل سکول و کالج، جو سیمی گورنمنٹ ادارہ ہے اور بورڈ آف گورنرز (BOG) کے تحت چلتا ہے، اس کی عمارت کے کچھ حصے بھی مخدوش حالت میں ہیں۔ خاص طور پر عثمان اور علی بلاک کو زیادہ متاثرہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں چھتوں اور دیواروں کی حالت واضح طور پر تشویش پیدا کرتی ہے۔ ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بروقت انسپکشن اور اصلاحی اقدامات کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ اس ادارے کو سرکاری فنڈز اور گرانٹس ملتی رہی ہیں، مگر ان فنڈز کے استعمال اور آڈٹ کے حوالے سے شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی سطح پر یہ تاثر موجود ہے کہ انٹرنل اور ایکسٹرنل آڈٹ رپورٹس پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو ایک بڑے تعلیمی ادارے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ گورننس کے بڑے خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کمشنر ہوتے ہیں، تاہم والدین یا عملہ جب کسی مسئلے پر رابطہ کرتے ہیں تو اکثر انہیں انتظامی سطح پر واپس پرنسپل کی طرف ریفر کر دیا جاتا ہے۔ اس سے ایک ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی کے اصل فورمز اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ بڑھ چکا ہے۔ جب شکایات نیچے ہی واپس آنا شروع ہو جائیں تو اصلاحی نظام کمزور پڑنے لگتا ہے۔مزید یہ کہ بعض اسٹاف ممبران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بھی کہا کہ ادارے میں انتظامی رویہ غیر معمولی طور پر سخت اور بعض اوقات دباؤ پر مبنی محسوس ہوتا ہے، جس سے مجموعی ورکنگ ماحول متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ اگرچہ یہ ذاتی آراء ہیں، لیکن جب ایسے بیانات بار بار سامنے آئیں تو انہیں مکمل طور پر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ تمام صورتحال اس بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی ادارے واقعی صرف تعلیمی معیار پر توجہ دے رہے ہیں یا ان کی بنیادی انفراسٹرکچر سیفٹی اور گورننس کہیں پیچھے رہ گئی ہے؟ لٹل سکالرز جیسے سانحے کے بعد یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ اب کسی بھی کمزوری کو صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے خطرے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام بڑے تعلیمی اداروں، خصوصاً سیمی گورنمنٹ اور نجی اداروں کا فوری طور پر فزیکل، فنانشل اور انتظامی آڈٹ کیا جائے۔ والدین کی رسائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے، شکایات کے لیے براہ راست مانیٹرنگ چینل قائم کیا جائے، اور سب سے بڑھ کر عمارتوں کی ساختی جانچ کو باقاعدہ اور شفاف بنایا جائے۔کیونکہ اب مسئلہ صرف ایک سکول یا ایک حادثے کا نہیں رہا، بلکہ پورے تعلیمی نظام پر اعتماد کا ہے۔ اور یہ اعتماد کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی بنیاد ہوتا ہے۔







