ملتان (قوم ریسرچ سیل ) واسا کا مرد آہن سی بی اے حسن بخاری میڈیا مینجمنٹ کی آڑ میں واسا افسران کے لئے درد سر بنا ہوا ہے اور واسا کے ہر انتظامی افسر و سابق منیجنگ ڈائریکٹرز کی کمزوریاں جمع کرکے انہیں دباؤ میں لانا اور محکمہ سے میرٹ کے برعکس مراعات و ترقیاں لے کر چند ہی سالوں میں قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر اقربا پروری کی بنیاد پر گریڈ 16 میں بھرتی ہونےوالے اس کمبائنڈ بارگیننگ ایجنٹ نے قواعد و ضوابط کے برعکس گریڈ 18 کی ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کی سیٹ سنبھال رکھی ہے جس پر تعلقات عامہ کا بندہ کسی بھی طور پر انتظامی عہدے پر نہیں آسکتا۔ سابق ڈپٹی کمشنر لاہور نے اپنے پبلک ریلیشن آفیسر کو انتظامی عہدے پر تعینات کیا تو انہیں چیف سیکرٹری پنجاب کی طرف سے انکوائری بھگتنا پڑی مگر واسا ملتان میں یہ کاریگر پی آر او میڈیا مینجمنٹ کے نام پر محکمہ سے اندر خانے خصوصی مراعات اور فنڈز لینے میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہے اور اس کی تعیناتی و اپ گریڈیشن کے حوالے سے اینٹی کرپشن میں درخواست زیر التوا ہے اور اینٹی کرپشن کے افسران بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے ایم ڈی واسا فیصل شوکت جنہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن حسن بخاری کو اپنا کار خاص بنایا ہوا ہے ، ایم ڈی واسا جنہوں نے اپنی تعیناتی کے بعد میرٹ اور کرپشن کے خاتمہ کا عزم ظاہر کیا تھا ان کی جانب سے حسن بخاری جن کے اوپر غلط اور غیر قانونی اپ گریڈیشن ، سابق ایم ڈی اور تین ڈائریکٹرز کیساتھ مل کر کرپشن میں سہولت کاری کرنے کے سمیت مختلف الزامات عائد ہیں ان کو ہر طرح کے اختیارات سے نوازنے پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں ، معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن، ڈپٹی ڈائریکٹر پی ایس ، پی آر او سمیت فیول چیکنگ کا چارج بھی حسن بخاری کے حوالے کردیا گیا ہے جس کے باعث ادارے میں نہ صرف افسران بلکہ واسا ملازمین بھی ان کے سامنے بےبس اور سہمے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ سیور مینوں کی بھرتی میں بھی حسن بخاری نے میرٹ کے برعکس اپنے خاص لوگوں کو نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور افسران پر دباؤ ڈال کر ایسے افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو نہ صرف میرٹ پر پورا نہیں اترتے تھے بلکہ سیور مین کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں اور اکثر ڈیوٹی پر بھی نہیں آرہے، صرف تنخواہیں وصول کررہے ہیں،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایم ڈی واسا فیصل شوکت کو حسن بخاری نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کرلیا ہے اور ان کے خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کے باعث ایم ڈی نے نہ صرف انہیں چار عہدوں پر براجمان رکھا ہوا ہے بلکہ اپنا’’کارخاص‘‘ بھی مقرر کر رکھا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ حسن بخاری نے 16 ویں سے 17 ویں سکیل میں اپ گریڈیشن بھی غیر قانونی اور غلط طریقے سے کروائی ہے اور اس حوالے سے حسن بخاری کے خلاف وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری ،سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب ، ڈی جی واسا ، ڈی جی ایم ڈی اے اور اینٹی کرپشن میں متعدد درخواستیں و انکوائریاں زیر سماعت ہیں لیکن حسن بخاری نے ان درخواستوں اور انکوائریوں کو’’مینیج‘‘ کروایا ہوا ہے اس لئے ان درخواستوں پر فیصلے زیر التوا ہیں ۔







