ڈاکٹر بھابھا کیس، فارنزک ثبوت سامنے آگئے، انصاف میں تاخیر، ادارے کا کٹہرے میں

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں واقع بہا الدین زکریا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر احسان قادر بھابھہ کیس میں ان کی اپنی سابقہ اہلیہ سے طلاق کے بعد زیادتی کے کیس میں پنجاب فارنزک سائنس اتھارٹی کی فارنزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد صورتحال نہایت سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو نہ صرف واقعے کی نوعیت کو انتہائی حساس بناتے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کیس نمبر PFSA25-894062-DNA-134901جو کہ تھانہ ڈی ایچ اےملتان میں درج ایف آئی آر سے متعلق ہے، میں متاثرہ خاتون کے نمونوں کا مکمل فارنزک تجزیہ کیا گیا۔ یہ رپورٹ سی پی او ملتان اور نشترہسپتال ملتان کو بھی ارسال کی گئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون سے حاصل کیے گئے تین اہم شواہد ( سوابز اور ٹشو پیپر) پر (material) کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ مزید برآں ڈی این اے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ خاتون سے حاصل ایک اہم شواہد (آئٹم نمبر 3) سے حاصل ہونے والا ڈی این اے پروفائل مبینہ ملزم کے ڈی این اے سے میچ کرتا ہے۔ فارنزک ماہرین کے مطابق اس میچ کی احتمالیت ایک غیر متعلقہ فرد کے مقابلے میں 536 کوآڈریلین میں ایک ہے، جو سائنسی اعتبار سے انتہائی مضبوط ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اسی آئٹم کے epithelial (جلدی خلیات) حصے میں کم از کم دو افراد کا ڈی این اے پایا گیاجس میں متاثرہ خاتون اور ملزم دونوں کے شامل ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس ڈی این اے مکسچر میں ملزم کی شمولیت کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے مقابلے میں تقریباً 14 کوآڈریلین گنا زیادہ ممکن ہے۔ آئٹم نمبر 2 کے تجزیے میں بھی صورتحال ملتی جلتی رہی جہاں پروفائل فریکشن میں کم از کم دو افراد کا ڈی این اے پایا گیا اور ملزم کو بطور ممکنہ شریک خارج نہیں کیا جا سکا، تاہم محدود جینیاتی معلومات کے باعث دوسرے فرد کی شناخت واضح نہیں ہو سکی۔ اسی آئٹم کے epithelial حصے میں متاثرہ خاتون کا ڈی این اے غالب پایا گیا جبکہ دوسرے جزو کو غیر حتمی قرار دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے سائنسی شواہد کسی بھی فوجداری مقدمے میں نہایت اہمیت رکھتے ہیںمگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے واضح شواہد سامنے آنے کے باوجود اب تک اس کیس میں کیا پیش رفت ہوئی؟ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حساس معاملے میں دباؤ کا شکار ہیں یا کسی بااثر شخصیت کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ساکھ پر حملہ ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی ملک میں خواتین کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں یا یہ بھی دیگر کیسز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا۔ یاد رہے کہ پروفیسر احسان قادر بھابھہ اس کیس کے سامنے آنے کے بعد متاثرہ خاتون سے اپنےہر قسم کے تعلق یہاں تک کہ سابقہ اہلیہ کے تعلق سے بھی انکار کرتے رہے مگر اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ متاثرہ خاتون ان کی سابقہ اہلیہ تھیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں