چیئرمین پی اے سی علی حیدر گیلانی کا بےضابطگیوں پراظہار برہمی

ملتان(سپیشل رپورٹر)چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب سید علی حیدر گیلانی کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں کے آڈٹ پیراز اور پراجیکٹ آڈٹ رپورٹس پر متعلقہ افسران سے تفصیلی بریفنگ لی گئی۔اجلاس میں درج ذیل محکمہ جات کے آڈٹ پیراز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا:
ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA)، اس کے ماتحت محکمے اور خودمختار ادارے — آڈٹ پیراز (کمرشل برائے سال 2023-24)محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف و فشریز اس کے ماتحت محکمے اور خودمختار ادارے — آڈٹ پیراز (سول) برائے سال 2021-22محکمہ خوراک، اس کے ماتحت محکمے اور خودمختار ادارے — آڈٹ پیراز (سول برائے سال 2021-22)،ہاؤسنگ، اربن ڈ ویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، اس کے ماتحت محکمے اور خودمختار ادارے — پراجیکٹ آڈٹ رپورٹ برائے راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ برائے سال 2015-16 شامل تھے۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور آڈٹ پیراز، مالی و انتظامی امور، زیر التواء کیسز اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب سید علی حیدر گیلانی نے افسران سے سوالات کیے اور مختلف امور پر وضاحت طلب کی۔اجلاس کے دوران ٹی ای وی ٹی اے کے مالی و انتظامی معاملات، بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، بغیر اشتہار تقرریوں کے عمل میں قواعد سے انحراف کے معاملات پر تفصیلی بحث ہوئی۔ چیئرمین پی اے سی نے ان امور پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام بھرتیاں کا عمل قانون و ضوابط کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جائے۔محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف و فشریز اور محکمہ خوراک کے آڈٹ پیراز پر بھی تفصیلی بریفنگ لی گئی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ زیر التواء آڈٹ اعتراضات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور ریکوری کے عمل کو مؤثر بنایا جائے۔ہاؤسنگ، اربن ڈ ویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ کے آڈٹ پیراز پر بریفنگ کے دوران مختلف مالی و تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کی کہ تمام ویری ایشنز کو قواعد کے مطابق ریگولرائز کیا جائے اور ذمہ داران سے مکمل وضاحت لی جائے۔اجلاس کے اختتام پر سید علی حیدر گیلانی نے کہا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے شفافیت، مؤثر نگرانی اور احتساب ناگزیر ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام آڈٹ پیراز اور زیر التواء کیسز کو مقررہ مدت میں نمٹا کر آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں