پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کی رہائی کے لیے جلسے جلوسوں کا اعلان-پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عمران خان کی رہائی کے لیے جلسے جلوسوں کا اعلان-ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایرانی تجاویز پر ردعمل، مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار-ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایرانی تجاویز پر ردعمل، مذاکرات پر عدم اطمینان کا اظہار-ججز ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل، نیا ڈیوٹی روسٹر جاری-ججز ٹرانسفر کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل، نیا ڈیوٹی روسٹر جاری-پیٹرول اور ڈیزل پر 153 اور 116 روپے تک ٹیکسز و مارجنز کا انکشاف، اصل قیمت سامنے آگئی-پیٹرول اور ڈیزل پر 153 اور 116 روپے تک ٹیکسز و مارجنز کا انکشاف، اصل قیمت سامنے آگئی-جعلی شہریت: ایف آئی اے تحقیقات مکمل، 9 یو سی سیکرٹریز ملوث، اینٹی کرپشن کو رپورٹ ارسال-جعلی شہریت: ایف آئی اے تحقیقات مکمل، 9 یو سی سیکرٹریز ملوث، اینٹی کرپشن کو رپورٹ ارسال

تازہ ترین

پچیس یونیورسٹیوں کے قائم مقام وائس چانسلر زکے اختیارات محدود ترقیاں نہ تعیناتیاں

گورنر پنجاب و چانسلر کا قائم مقام وائس چانسلرز بارے بڑا فیصلہ ، سینڈیکیٹ ،سینیٹ اجلاس اورسلیکشن بورڈ کا اجلاس نہیں بلا سکیں گے

جامعہ پنجاب، زکریا،ویمن،اسلامیہ بہاول پور،خواجہ فریدرحیم یارخان،تھل بھکر، یونیورسٹی آف لیہ،جی سی فیصل آبادودیگریونیورسٹیزشامل

ملتان (ایڈیٹر رپورٹنگ) گورنر پنجاب و چانسلر کا قائم مقام وائس چانسلرز بارے بڑا فیصلہ، 25 یونیورسٹیوں کے قائم مقام / پرو وائس چانسلرز کے اختیارات محدود کردیئے ، سینڈیکیٹ اور سینیٹ اجلاس ، ترقیوں و تعیناتیوں سے روک دیا ، قائم مقام وائس چانسلرزسلیکشن بورڈ کا اجلاس نہیں بلا سکیں گے تفصیل کے مطابق گورنمنٹ آف پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نوٹیفیکیشن نمبر (Univ.Misc-02/2024)

کے مطابق گورنر/چانسلر کو پنجاب میں محکمہ ہائر ایجوکیشن کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والی 25 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو درج ذیل ہدایات جاری کی ہیں کہ جہاں پرو وائس چانسلرز یا قائم مقام وائس چانسلرز وائس چانسلر کے طور پر کام کر رہے ہیں وہ مستقل یا ریگولر وائس چانسلرز کی تقرری/ عہدہ سنبھالنے تک مزید سنڈیکیٹ/سینیٹ کے اجلاس منعقد نہیں کیے جائیں۔ تاہم انتہائی ضرورت کی صورت میں، اس طرح کے اجلاس صرف ہنگامی ایجنڈے کی منظوری کی حد تک منعقد کیے جاسکتے ہیں جن میں سلیکشن بورڈز/اکیڈمک کونسلز کی سفارشات کی منظوری اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹیوں کی طرف سے تجویز کردہ اکیڈمک ڈپارٹمنٹس/اسامیاں تخلیق کرنا شامل ہیں۔یونیورسٹیوں کے قائم مقام/ پرو وائس چانسلرز کو اپنی موجودہ اسائنمنٹس کے دوران مزید طویل مدتی پالیسی/ مالیاتی فیصلے نہیں کرنے چاہئیں اور مزید سلیکشن بورڈز کی مزید کوئی میٹنگ نہ کی جائے اور نہ ہی ان بورڈز کی جانب سے پہلے سے دی گئی سفارشات (جن کی منظوری متعلقہ فورمز سے پہلے ہی منظور نہیں ہو چکی ہے) پر مزید کارروائی کی جائے۔جن یونیورسٹیوں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان میں پنجاب یونیورسٹی لاہور ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد ، بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ، یونیورسٹی آف گجرات ، ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان ، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد ، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ ، گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور ، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی لاہور، ویمن یونیورسٹی ملتان، یونیورسٹی آف اکنامکس لاہور، یونیورسٹی آف کمالیہ ، تھل یونیورسٹی بھکر، یونیورسٹی آف اوکاڑہ ، یونیورسٹی آف جھنگ، غازی یونیورسٹی ڈیرا غازی خان ، یونیورسٹی آف نارووال ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ، یونیورسٹی آف لیہ شامل ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں