پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب سے کم ہو کر 752 ارب روپے کرنے کی تجویز، 3560 منصوبے شامل

لاہور: پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی بجٹ میں بڑی کمی کی تجویز دیتے ہوئے اسے 1450 ارب روپے سے کم کرکے 752 ارب روپے مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) آج پیش کیا جائے گا، جس میں مجموعی طور پر 3560 ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق 752 ارب روپے کے مجوزہ بجٹ میں سے 493 ارب 25 کروڑ روپے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے جبکہ 258 ارب 75 کروڑ روپے نئی اسکیموں کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
جاری منصوبوں میں 3117 اسکیموں کے لیے 353 ارب 84 کروڑ روپے لوکل فنڈنگ اور 139 ارب 40 کروڑ روپے غیر ملکی امداد سے خرچ کیے جانے کی تجویز شامل ہے۔ اسی طرح 420 نئی اسکیموں کے لیے 254 ارب روپے لوکل جبکہ 4 ارب 68 کروڑ روپے فارن فنڈنگ رکھی گئی ہے۔
گزشتہ مالی سال 2025-26 میں ترقیاتی بجٹ 1240 ارب روپے منظور کیا گیا تھا، تاہم آئندہ سال اس میں نمایاں کمی کرتے ہوئے 752 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، یعنی 488 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اسی طرح منصوبوں کی تعداد بھی کم کر دی گئی ہے۔ پچھلے سال 5755 منصوبے شامل تھے جبکہ اس سال یہ تعداد کم ہو کر 3560 رہ گئی ہے، یعنی 2195 منصوبے کم کیے گئے ہیں۔ نئے منصوبوں کی تعداد بھی 1662 سے کم ہو کر 420 رہ گئی ہے۔
دوسری جانب جاری منصوبوں کی تعداد 1442 سے بڑھا کر 3117 کر دی گئی ہے تاکہ موجودہ منصوبوں کی تکمیل پر زیادہ توجہ دی جا سکے۔
ترقیاتی پروگرام میں مختلف بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔ نواز شریف کینسر اسپتال لاہور کے لیے 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ ڈی جی خان میں کلثوم نواز کینسر اسپتال کے لیے 80 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کی مجموعی لاگت 15 ارب روپے ہے۔
تعلیمی اور فلاحی منصوبوں میں وزیراعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 15 ارب 69 کروڑ روپے، کسان کارڈ کے لیے 2 ارب 47 کروڑ روپے، کسان کارڈ فیز ٹو کے لیے 6 ارب 75 کروڑ روپے اور لائیو اسٹاک کارڈ فیز ٹو کے لیے 1 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

اسی طرح پرواز کارڈ برائے انٹرنیشنل پلیسمنٹ پروگرام کے لیے 30 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
تعلیمی شعبے میں میاں نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قصور کے لیے مجموعی طور پر 9.5 ارب روپے کا منصوبہ شامل ہے، جبکہ آئندہ سال 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اسپورٹس اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں شہباز شریف اسپورٹس کمپلکس قصور، اسپورٹس جمنازیم گوجرانوالہ اور نواز شریف اسپورٹس گراؤنڈ سیالکوٹ کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ لاہور کے لیے 169 ارب روپے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر 2 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ مریم نواز ہیلتھ کلینک اور دیگر فلاحی پروگراموں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
مزید منصوبوں میں مختلف پارکس، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور اسپورٹس سٹی لاہور جیسے بڑے پراجیکٹس شامل ہیں۔ مریم نواز اسپورٹس سٹی لاہور کے لیے 50 ارب روپے کے منصوبے میں ابتدائی طور پر 11 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ہر ڈویژن میں آٹزم اسکول کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کی مجموعی لاگت 4.5 ارب روپے بتائی گئی ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے 1 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں