یزمان( نمائندہ خصوصی )پنجاب بہت ترقی کر گیا ہے مگر چولستان کے حالات آج بھی پیاس، محرومی اور بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔چولستان کی تپتی ریت ایک اور نوجوان کی جان نگل گئی۔مقامی چولستانی محمد اورنگزیب ولد ملک پیر بخش قوم ماتم چولستان میں پانی نہ ملنےاورشدید پیاس کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔نماز جنازہ مغرب کے بعد 8بجےچک نمبر 95 ڈی بی میں اداکی گئی۔ پانی کی شدید قلت کے باعث ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہو گئی مگر افسوس کہ اس سانحے پر بھی ذمہ دار اداروں کی خاموشی برقرار ہے۔ایک طرف پنجاب میں ترقی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جدید منصوبوں کے افتتاح ہو رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف چولستان کے لوگ پینے کے ایک گھونٹ پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔چولستانیوں نے دہائی دیتےہوئےکہاکہ آخر چولستان کے عوام کا قصور کیا ہے؟کیا چولستان پاکستان کا حصہ نہیں؟کیا چولستان پنجاب کا حصہ نہیں؟کیا چولستانیوں کی زندگیاں اتنی غیر اہم ہیں کہ انہیں پانی جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم رکھا جائے؟آج چولستان کی حالت یہ ہے کہ خشک ٹوبے، پیاسے انسان اور مرجھاتے مویشی ایک بڑے انسانی المیے کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ہزاروں خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور لوگ اپنے علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوںنےکہاکہ ہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چولستان میں فوری طور پر پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ خشک ٹوبوں کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ مستقل آبی منصوبوں کا آغاز کیا جائے۔ چولستان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔اگر آج بھی چولستان کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو تاریخ یہ ضرور پوچھے گی کہ جب پنجاب ترقی کے دعوے کر رہا تھاتب چولستان کے لوگ پیاس سے کیوں مر رہے تھے؟۔چولستان ڈیزرٹ پاکستان کا ایک وسیع اور خوبصورت صحرا ہے، لیکن گرمیوں کے موسم میں یہی صحرا آگ کا منظر پیش کرتا ہے۔ سورج کی تپتی ہوئی کرنیں جب ریت کے ذروں پر پڑتی ہیں تو درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ میلوں دور تک نہ کوئی سایہ نظر آتا ہے اور نہ ہی پانی کی آسان دستیابی ہوتی ہے۔اس شدید گرمی کے باوجود چولستان کی زندگی رکتی نہیں۔ یہاں انسان، جانور اور چرند پرند سب قدرت کے سخت امتحان کا سامنا کرتے ہیں۔ چولستان کے محنتی اور بہادر لوگ روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سخت موسم کا مقابلہ کرتے ہیں۔ پانی کی تلاش میں طویل سفر کرتے ہیں اور اپنے مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔صحرا میں رہنے والے اونٹ، گائے، بکریاں اور بھیڑیں شدید گرمی اور پیاس برداشت کرتے ہوئے زندگی کا سفر جاری رکھتی ہیں۔ دوسری طرف مختلف پرندے بھی پانی کی تلاش میں دور دراز علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ جب پانی کے ذخائر خشک ہونے لگتے ہیں تو جانوروں اور پرندوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، فلاحی ادارے اور صاحبِ حیثیت افراد چولستان کے لوگوں اور جانوروں کے لیے مزید واٹر سپلائی منصوبے، ہینڈ پمپ اور پانی کے ذخائر قائم کریں تاکہ اس شدید گرمی میں زندگی کا یہ سفر آسان بنایا جا سکے۔چولستان کے باسی آج بھی ثابت قدم ہیں۔ وہ سخت ترین حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔ یہی حوصلہ اور عزم چولستان کی اصل پہچان ہے۔







