ملتان(انویسٹی گیشن سیل) پنجاب بار کونسل نے وکالت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر جاری بے ضابطگیوں، مشکوک ڈگریوں اور دوہری ملازمتوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے 1200 وکلا کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیںجبکہ سرکاری یا نجی ملازمت، کاروبار اور دیگر نااہلیاں چھپا کر وکالت کرنے والوں کیلئے ’’آخری ایمنسٹی‘‘کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے مختلف جامعات سے حاصل کردہ تقریباً 1200 قانون کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ان جامعات میں شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، میرپور یونیورسٹی اور محی الدین یونیورسٹی آزاد کشمیر شامل ہیں۔ بار کونسل نے متعلقہ وکلاء کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ڈگریاں تصدیق نہیں کروائی گئیں تو ان کے لائسنس فوری طور پر معطل کر دیئے جائیں گے اور مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ پنجاب بار کونسل نے ان وکلاء کے خلاف بھی شکنجہ سخت کر دیا ہے جو سرکاری یا نیم سرکاری ملازمت، نجی کاروبار یا دیگر نااہلیاں چھپا کر وکالت کے لائسنس حاصل کرچکے ہیں۔ بار کونسل نے پہلے انہیں 15 مئی 2026ء تک رضاکارانہ طور پر اپنے لائسنس سرنڈر کرنے کا موقع دیا تھاجس کے بعد بڑی تعداد میں وکلاء نے خاموشی سے اپنے لائسنس واپس کر دیئے اور انہیں ایمنسٹی کے فوائد بھی دیتے ہوئے کوئی کارروائی عمل میںنہیںلائی گئی۔ذرائع کے مطابق لائسنس واپس کرنے کے بارے میں موصول ہونے والی درخواستوں اور مزید انکشافات کے خدشات کے پیش نظر پنجاب بار کونسل نے ایمنسٹی سکیم میں آخری بار توسیع کرتے ہوئے نئی ڈیڈ لائن 31 مئی 2026ء مقرر کر دی ہے۔ بار کونسل نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اس کے بعد کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔پنجاب بار کونسل کے مطابق توسیع شدہ مدت کے بعد بھی خلاف ورزی ثابت ہونے پر نہ صرف وکالت کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے بلکہ پنجاب لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2023 کے تحت فوجداری مقدمات بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وکالت کے مقدس پیشے کو جعلی ڈگری ہولڈرز، جعلی وکلا اور دوہری مفادات رکھنے والے عناصر سے پاک کرنے کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جا چکی ہے۔بار کونسل نے آئندہ کیلئے نئی سخت پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب کسی بھی وکیل کی انرولمنٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق شدہ ڈگری کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ “یہ نوٹس حتمی تصور کیا جائے” اور قانونی پیشے کے وقار، سالمیت اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔خیال رہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری اور پرائیویٹ ملازمت رکھنے یا کسی کاروبار اور فوجداری کارروائی کو چھپا کر غلط بیان حلفی کے ذریعے پنجاب بار کونسل سے لائسنس حاصل کرنے کے بعد مذکورہ سرکاری و پرائیویٹ ملازمین بار ایسوسی ایشنز میںووٹ بھی کاسٹ کرتے ہیں۔







