وفاقی آئینی عدالت کا سپر ٹیکس کیس میں بڑا فیصلہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار-وفاقی آئینی عدالت کا سپر ٹیکس کیس میں بڑا فیصلہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار-شہباز شریف کا بڑا اعلان: کم لاگت گھروں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح قرار-شہباز شریف کا بڑا اعلان: کم لاگت گھروں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح قرار-آبنائے ہرمز پر ایرانی صدر کا سخت مؤقف، امریکا اور اسرائیل کو واضح وارننگ-آبنائے ہرمز پر ایرانی صدر کا سخت مؤقف، امریکا اور اسرائیل کو واضح وارننگ-اسلام آباد ہائی کورٹ ججز تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، اہم درخواست دائر-اسلام آباد ہائی کورٹ ججز تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، اہم درخواست دائر-اپنا گھر اسکیم کا اجرا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان: آئندہ بجٹ میں عوام کو مزید سہولتیں دینے کا وعدہ-اپنا گھر اسکیم کا اجرا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان: آئندہ بجٹ میں عوام کو مزید سہولتیں دینے کا وعدہ

تازہ ترین

پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، مریم نواز کی تقریر کے دوران احتجاج کرنے والے 26 اپوزیشن ارکان معطل

لاہور: پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی تقریر کے دوران شدید نعرے بازی اور ہنگامہ کرنے والے اپوزیشن ارکان کو اسپیکر ملک محمد احمد خان نے سخت کارروائی کا سامنا کرواتے ہوئے اجلاسوں سے معطل کر دیا۔
اسپیکر نے اسمبلی کے قاعدہ 210(3) کے تحت 26 اپوزیشن اراکین کو پندرہ اجلاسوں کے لیے معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے مطابق وہ آئندہ پندرہ سیشنز میں شرکت سے محروم رہیں گے۔
معطل ہونے والوں میں فہد مسعود، تنویر اسلم، اعجاز شفیع، رفعت محمود، یاسر محمود، کلیم اللہ خان، انصر اقبال، علی آصف، ذوالفقار علی، مجتبیٰ چوہدری، شاہد جاوید، اسماعیل، خیال احمد کاسترو، شہباز احمد، طیب راشد، امتیاز محمود، علی امتیاز، راشد طفیل، رائے مرتضیٰ، خالد زبیر، صائمہ کنول، نعیم، سجاد احمد، رانا اورنگزیب، شعیب امیر اور اسامہ علی گجر شامل ہیں۔
یہ معطلی اس وقت عمل میں آئی جب ان ارکان نے مریم نواز کی تقریر کے دوران شور شرابا کیا، ایجنڈے کے صفحات پھاڑے اور حکومتی بینچوں پر پھینکے، اور غیرپارلیمانی زبان استعمال کی، جس سے اجلاس کی کارروائی متاثر ہوئی۔
اپوزیشن کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ رکن اعجاز شفیع نے کہا کہ پرامن احتجاج ہمارا آئینی حق ہے اور اسے دبایا نہیں جا سکتا۔ امتیاز علی نے اسپیکر پر جانبداری کا الزام عائد کیا جبکہ شعیب امیر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب وزیر اعلیٰ اسمبلی سال میں ایک بار آئیں گی تو احتجاج تو لازمی ہوگا۔
ادھر اسپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ اراکین نے ایوان کے نظم و ضبط کو پامال کیا، احتجاج کا حق تسلیم شدہ ہے لیکن اس کی بھی ایک حد ہے جو آئین و قانون کے تابع ہے۔ انہوں نے عالمی پارلیمانی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان میں شور شرابے کو غیرپارلیمانی رویہ قرار دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں