پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر جماعت اسلامی کا 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان-پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر جماعت اسلامی کا 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان-پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت-پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت-جنوبی وزیرستان اپر میں پہلی بار خاتون ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کی رکن مقرر، اہم پیش رفت-جنوبی وزیرستان اپر میں پہلی بار خاتون ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کی رکن مقرر، اہم پیش رفت-مصنوعی ذہانت سے تیار ڈیجیٹل اداکارہ فلمی دنیا میں ڈیبیو کے لیے تیار، نئی بحث چھڑ گئی-مصنوعی ذہانت سے تیار ڈیجیٹل اداکارہ فلمی دنیا میں ڈیبیو کے لیے تیار، نئی بحث چھڑ گئی-عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق الزامات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ-عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق الزامات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ

تازہ ترین

وفاقی حکومت کا قرض 82 کھرب روپے تک پہنچ گیا، آڈٹ رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): وفاقی حکومت کا مجموعی قرض مئی 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 82 کھرب روپے تک جا پہنچا، جبکہ ایک سال کے دوران قرضوں کے حجم میں 5.9 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے حکومتی مالیاتی حکمت عملی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تازہ قرضہ بلیٹن کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران حکومتی قرضوں میں 7.8 فیصد اضافہ ہوا، جو اسی عرصے میں اوسط مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی قرض میں واجبات اور آئی ایم ایف کے قرضے شامل نہیں، تاہم جون سے مئی تک حکومتی قرض مسلسل بڑھتا رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی اخراجات اب بھی آمدن سے زیادہ ہیں اور قرضوں کے بہتر انتظام کی ضرورت برقرار ہے۔
دوسری جانب آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں وزارتِ خزانہ کی بجٹ سازی پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے 1.83 کھرب روپے کی غیر حقیقی بجٹ منصوبہ بندی کی گئی، جس کے نتیجے میں اضافی اور غیر ضروری مالی اخراجات سامنے آئے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ وزارتِ خزانہ اپنے نگرانی اور مالیاتی کنٹرول کے نظام کو مزید مؤثر بنائے تاکہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار حقیقی مالی ضروریات کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت مالیاتی رپورٹنگ مینول کے تحت ہر ماہ تیار کی جانے والی Debt and Losses Report بھی باقاعدگی سے مرتب نہیں کر رہی، حالانکہ یہ رپورٹ قومی قرضوں کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کا ڈیٹ مینجمنٹ آفس بھی گزشتہ چھ ماہ سے مستقل سربراہ سے محروم ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کی نشست جنوری سے خالی ہے اور ادارہ عبوری انتظامیہ کے تحت چل رہا ہے، جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ بھی اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرض ایک سال کے دوران 22.5 کھرب روپے سے بڑھ کر 23.8 کھرب روپے ہو گیا۔ اگرچہ روپے کی قدر میں نسبتاً استحکام کے باعث بیرونی قرض میں اضافہ گزشتہ برسوں کی نسبت محدود رہا، تاہم قلیل مدتی بیرونی قرض 201 ارب روپے سے بڑھ کر 2.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جسے اسٹیٹ بینک نے قرضوں کی درجہ بندی میں تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اسی طرح داخلی قرض بھی بڑھ کر 58.1 کھرب روپے ہو گیا، جس میں ایک سال کے دوران 4.7 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ قلیل مدتی داخلی قرض 8.1 کھرب روپے سے بڑھ کر 10.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ طویل مدتی داخلی قرض کا حجم بھی بڑھ کر 47.3 کھرب روپے ہو گیا۔
رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث حکومت پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے، اور رواں مالی سال کے دوران صرف سود کی مد میں اخراجات 8 کھرب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں