چکوال فائرنگ کیس: سی سی ڈی کی تربیت اور کارروائی پر سنگین سوالات، ہائیکورٹ میں اہم سماعت-چکوال فائرنگ کیس: سی سی ڈی کی تربیت اور کارروائی پر سنگین سوالات، ہائیکورٹ میں اہم سماعت-برطانیہ کا ایران امریکا مفاہمت میں شہباز شریف اور عاصم منیر کے کردار کو تاریخی قرار دینا-برطانیہ کا ایران امریکا مفاہمت میں شہباز شریف اور عاصم منیر کے کردار کو تاریخی قرار دینا-نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس جاری، آئندہ حکمت عملی پر غور-نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر اہم اجلاس جاری، آئندہ حکمت عملی پر غور-امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے، جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی کا امکان-امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے، جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی کا امکان-لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی کو علیحدہ رہنے کا حق حاصل-لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی کو علیحدہ رہنے کا حق حاصل

تازہ ترین

وزیراعلیٰ کا نوٹس، بےضابطگیوں پر ڈی سی، اے سی لودھراں و دیگر ریونیو افسران کیخلاف تحقیقات

لودھراں(قوم نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، جو پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی چیئرپرسن بھی ہیں کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد ڈپٹی کمشنر لودھراں چو ہد ر ی محمد اشرف گجر، اسسٹنٹ کمشنر لودھراں فرخ اللہ خان اور دیگر متعلقہ ریونیو افسران کے خلاف مبینہ کرپشن، اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ وکیل رہنما برائے انسانی و سماجی حقوق محمد وسیم قریشی نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2024 کے سیکشن 47 کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو ایک تفصیلی شکایت ارسال کی تھی۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ لودھراں سٹی سٹیڈیم روڈ کی باؤنڈری وال کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے مسمار کیا گیا، سٹیڈیم کی حدود میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا، سرکاری املاک اور درختوں کو مبینہ نقصان پہنچایا گیا جبکہ بعض نجی افراد کو مبینہ فائدہ پہنچانے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا۔شکایت میں ڈپٹی کمشنر لودھراں چوہدری محمد اشرف گجر، اسسٹنٹ کمشنر لودھراں فرخ اللہ خان، تحصیلدار اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف مبینہ کرپشن، مبینہ ملی بھگت اور کروڑوں روپے کی مبینہ غیر قانونی مالی منفعت حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کئےگئے تھے۔ درخواست گزار کے مطابق مذکورہ اقدامات مبینہ طور پر قانونی تقاضے، نوٹسز، ٹینڈرنگ قوانین اور مقررہ طریقہ کار پورا کئے بغیر کئے گئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے معاملہ پیرا کے وائس چیئرمین و چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دیا گیاجس کے بعد پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2024 کے سیکشن 53 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب اور سیکرٹری ریونیو پنجاب کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا۔ انکوائری کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس نے تمام متعلقہ ریکارڈ، رپورٹیں، کمنٹس اور حقائق پر مبنی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔محمد وسیم قریشی ایڈووکیٹ کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب کو دی گئی درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خمیسہ بھٹہ روڈ سے خواجائے والا چوک تک مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے دوران بھی بعض شہریوں کو مناسب نوٹس اور مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر اقدامات کئے گئے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض سرکاری افسران اور نجی افراد نے مبینہ طور پر ملی بھگت کے ذریعے 9 سے 10 کروڑ روپے تک کی غیر قانونی مالی منفعت حاصل کی۔دوسری جانب لودھراں کے شہریوں، سماجی کارکنوں اور متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، وائس چیئرمین پیرا اور چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے آغاز کا خیرمقدم کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شفاف اور آزادانہ انکوائری سے تمام حقائق سامنے آئیں گے اور اگر کسی بھی سطح پر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔۔واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر لودھراں، اسسٹنٹ کمشنر لودھراں اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف عائد تمام الزامات فی الحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور کسی مجاز فورم کی جانب سے ان الزامات کی حتمی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ حتمی حقائق کا تعین فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اور انکوائری رپورٹ کی تکمیل کے بعد ہوگا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں