اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان اور کاروباری شعبے کو نمایاں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ گزشتہ بجٹوں سے مختلف ہے اور اس میں عوامی ریلیف کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت پر بلاجواز تنقید کرنے والے عناصر موجود ہیں، تاہم بعض مخالفین بھی اس بجٹ کے مثبت پہلوؤں کو تسلیم کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی رہنما معیشت کے حوالے سے منفی پیش گوئیاں کرتے رہے، جبکہ اس وقت ملک شدید مالی دباؤ کا شکار تھا، زرمبادلہ کے ذخائر کم سطح پر تھے اور مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے، آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات ہوئے اور دو سال کی مسلسل کوششوں کے بعد ریلیف دینے کی گنجائش پیدا ہوئی۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق ایف بی آر میں اصلاحات، فیس لیس اپریزل سسٹم اور ڈیجیٹلائزیشن سے ٹیکس نظام میں بہتری آئی ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں سخت نگرانی کے باعث اربوں روپے کی اضافی وصولیاں ممکن ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، 50 ہزار روپے ماہانہ آمدن تک ٹیکس ختم اور ایک لاکھ روپے تک ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
برآمد کنندگان کے لیے پیشگی ٹیکس اور سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف سہولتوں کے ذریعے صنعت اور برآمدات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہاؤسنگ، زراعت، آئی ٹی اور یوتھ پروگرام کے لیے بھی اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ معیشت کے مختلف شعبے مستحکم ہوں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کے ان اقدامات کا مقصد ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے جانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔







