ملتان(انویسٹی گیشن سیل) واسا ملتان کے جاری ترقیاتی منصوبوں میں ایم ڈی واسا فیصل شوکت کی چہیتی فرم پرک احتشام کی جانب سے 46 کروڑ کے بوگس بل نکلوانے کی منصوبہ بندی کے روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل چینل میں تفصیلات اور ثبوت شائع ہونے پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب نے 24 گھنٹے کے اند اندر نوٹس لے لیا اور کمشنر ملتان ڈویژن سے معاملے کی 72 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیل کے مطابق حکومت پنجاب کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب نے واسا ملتان کے نارتھ ڈویژن میں پرک احتشام نامی کمپنی کی جانب سے 46 کروڑ روپے کی بوگس آئی پی سی جمع کروانے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر ملتان ڈویژن سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔سرکاری مراسلے کے مطابق میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ واسا ملتان کے زیرِ انتظام پرانی سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے فیز فور منصوبے میں مبینہ طور پر 46 کروڑ روپے کے بوگس بل بنائے گئے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے حقائق پر مبنی رپورٹ اور مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے اور کمشنر ملتان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تین روز کے اندر تمام متعلقہ ریکارڈ سمیت تفصیلی حقائق پر مبنی رپورٹ جمع کرائیں۔ذرائع کے مطابق رپورٹ موصول ہونے کے بعد معاملے میں مزید کارروائی اور ذمہ داران کے تعین کا فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ روزنامہ قوم اور قوم ڈیجیٹل نے گذشتہ روز نارتھ ڈویژن میں پرانی سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے پراجیکٹ میں 46 کروڑ روپے کی بوگس آئی پی سی جمع کروانے کی نشاند ہی کی تھی جس کے بعدمعاملہ چیک ہونے پر وہ بل صرف پانچ کروڑ روپے کا ہوگیا اور اس طرح 41 کروڑ روپے کی ہیرا پھیری پکڑی گئی، ذرائع کے مطابق منصوبہ پر کام کرنے والی کمپنی پرک احتشام کے ایم ڈی واسا فیصل شوکت کے ساتھ دیرینہ اور قریبی مراسم ہیں اور نارتھ ڈویژن میں تعینات ایس ڈی او واسا فضل الرحمان بھی ایم ڈی واسا کے چہیتے افسران میں شامل ہیں جن کی ملی بھگت سے بوگس آئی پی سی بنا کر قومی خزانے سے 46 کروڑ روپے کی رقم پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی گئی جسے ایم ڈی واسا کی ہدایت پر کنسلٹنٹ کی چیکنگ کے بعد ناکام بنا دیا گیا اسی طرح سرکاری خزانے سے 41 کروڑ روپے کا ضیاع بچ گیا، یہ بھی یاد رہے کہ ایم ڈی واسا فیصل شوکت کی جانب سے معاملہ سامنے آنے کے باوجود فراڈ اور بوگس بل بنا کر کروڑوں روپے اینٹھنے کی کوشش کرنے والی پرک احتشام کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی نہیں کی جس پر متعدد سوال اٹھ رہے ہیں۔







