ملتان (قوم ریسرچ سیل) واسا کے زیر انتظام ملتان کے مختلف علاقوں میں سات ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے دو میگا پراجیکٹس اپنے آغاز ہی میں میگا کرپشن کی نذر ہو گئے۔ غیر معیاری سیمنٹ ،دو نمبر اینٹ اور دراڑوں سے بھرے کنکریٹ پائپ سات ارب روپے کے دونوں منصوبوں کی کارکردگی پر درجنوں سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ یہ دونوں منصوبے لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک کنسٹرکشن فرم میاں وقاص برادرز اینڈ انجینئرز کنسلٹنٹس کی زیر نگرانی مکمل کروائے جا رہے ہیں اور روزنامہ قوم کی ٹیم نے ناردرن بائی پاس کے علاقے جہانگیر آباد اور لاری اڈا میں ایک ریٹائرڈ سول انجینئر کی معاونت سے پائپوں کا معائنہ کروایا اور تصاویر بنائی تو 90 فیصد پائپ دراڑوں سے بھرے ہوئے تھے جبکہ زیر زمین ڈسپوزل سٹیشن کے لیے تیسرے درجے کی انتہائی ہلکی کوالٹی کی اینٹیں منگوائی گئی تھیں۔ روزنامہ قوم کو بتایا گیا کہ اگر ان پائپوں میںسر کے بال کے برابر بھی دراڑ ہو تو چند ہی ماہ میں پائپ کے اندر لگا ہوا آہنی جال زنگ آلود ہو کر پھول جاتا ہے جس سے پائپ ٹوٹ جاتے ہیں اور آئے روز کراؤن فیلیئر ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے حوالے سے جب واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر فیصل شوکت کو تصاویر اور تفصیلات واٹس ایپ پر بھیج کر ان کا موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو وہ اس معاملے سے لاعلم تھے اور انہوں نے کہا کہ میرے علم میں نہیں البتہ میں چیک کرکے آپ کو آگاہ کرتا ہوں۔ انہوں نے یہ منطق اختیار کی کہ پائپوں کی تیاری میں ہلکی پھلکی دراڑیں آ ہی جاتی ہیں اور بعض اوقات یہ دراڑیں لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے دوران بھی آ جاتی ہیں مگر جب انہیں بتایا گیا یہ تمام پائپ دو سے ڈھائی فٹ مٹی کی ڈھیری پر اتارے گئے ہیں اور جو انجینئر’’ قوم‘‘ کی ٹیم کے ساتھ موقع پر گئے تھے انہوں نے بتایا کہ ان پائپوں کی تیاری میں جلد بازی کی گئی ہے اور پوری طرح میٹریل نہیں ڈالا گیا اور نہ ہی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اسے پکایا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کے انچارج ڈائریکٹر ورکس حافظ وقاص ہیں جو کہ ایگزیکٹو انجینئر ہیں مگر ناتجربہ کار ہیں۔ لاہور سے لائی جانے والی ٹھیکیدار پارٹی نے ملتان میں واسا کے ساتھ شدید قسم کھلواڑ شروع کر رکھا ہے مگر یہاں کے افسران ٹھنڈے کمروں سے نکل کر موقع معائنہ ہی نہیں کر رہے۔







