ملتان ( میاں غفار احمد سے) پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ایک مرتبہ پھر ملک بھر کے چاروں صوبوں کے 149 اضلاع کو 27 اکائیوں میں تقسیم کرکے پانچ سے چھ اضلاع پر مشتمل 27 انتظامی یونٹس بنانے کے ضیاء الحق کے دور کے انصاری فارمولے، مشرف دور کے جنرل تنویر نقوی فارمولے کو یکجا کرکے ایک منظم منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس فارمولے کے مطابق کراچی اور گوادر وفاق کے زیر انتظام ہو گا اور ویسے بھی تکنیکی طور پر گوادر چونکہ قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان نے خریدا تھا اور اس کی ادائیگی حکومت، پاکستان اس کے علاوہ آغا خان فاؤنڈیشن نے کی تھی۔ اس لحاظ سے گوادر بلوچستان سے ملحقہ ضرور ہے مگر بلوچستان کا حصہ نہ ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق اس وقت پنجاب کے 41 اضلاع، سندھ کے 30 اضلاع، خیبر پختونخواکے 38 اضلاع اور بلوچستان کے 40 اضلاع ہیں جبکہ چاروں صوبے میں کل 32 ڈویژن ہیں جن میں سے 10 ڈویژن پنجاب، 7 ڈویژن سندھ، 8 ڈویژن بلوچستان کے اور 7 ہی ڈویژن خیبر پختون خواہ کے ہیں۔ چاروں صوبوں کو مختلف انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کا سب سے پہلا پلان جنرل ضیاء الحق نے بنایا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور اس کے بعد جنرل مشرف کے دور میں جنرل تنویر نقوی نے اس پر بہت سا کام کیا مگر اسی دوران سابق صدر پرویز مشرف کے پرسنل سیکرٹری طارق عزیز کے ذریعے گجرات کے چوہدری برادران سے معاملات طے ہو گئے اور ڈویژنل لیول کے انتظامی یونٹس کے نظام کا منصوبہ پھر کھٹائی میں پڑ گیا ۔چوہدری برادران کسی صورت میں بھی پنجاب کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے تھے جبکہ پنجاب ہی کی سیاست ہمیشہ مسلم لیگ نون نے کی۔ چوہدری برادران کی کوششوں سے ڈویژنل نظام ضلعی نظام میں تبدیل ہو گیا اور پھر مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں ضلعی نظام بھی رخصت کر دیا گیا۔ بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کوششوں سے آئین میں تبدیلی کے ذریعے صوبوں کے اختیارات اتنے بڑھ گئے کہ مرکز کمزور ہو گیا اور طاقت کے توازن کا پلڑا مکمل طور پر صوبوں کی طرف جھک گیا۔ اختیارات کے اس عدم توازن نے مرکز سے بہت کچھ چھین لیا اور خصوصی طور پر پنجاب و سندھ میں صوبائی حکومتوں نے کھل کھیل کر مرکز کے فیصلوں کو مکھن سے بال کی طرح نکال باہر کیا اور اسی قسم کی صورتحال کے پی کے میں بھی رہی۔ وفاق میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے اور آئین میں ترمیم کے ذریعے ڈویژنل لیول کے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت کو ایک مرتبہ پھر سے اولیت حاصل ہو چکی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق ہر انتظامی یونٹ کا سربراہ وزیراعلیٰ کی بجائے چیف ایگزیکٹو ہو گا جس کا اپنا بجٹ ہوگا اور اس کے ممبران کی تعداد مختصر ہوگی اور انہیں ٹیکس لگانے کےمکمل اختیارات ہوں گے۔ تمام تر ترقیاتی سرگرمیاں اور اہم پروجیکٹس بھی انہی کے ذمے ہوں گے اور اپنی خطے کی عوام کے لیے انفراسٹرکچر کی مکمل ذمہ داری بھی انہی کی ہو گی۔ یہ بھی اصولی طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہوگی۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے بھی کراچی بمبئی کے ساتھ منسلک تھا اور سندھ کا ہیڈ کوارٹر حیدرآباد ہوا کرتا تھا۔ اس نئے مجوزہ منصوبے کے تحت کراچی کا مکمل کنٹرول وفاق کے پاس ہو گا جس سے سندھ کا یہ دعویٰ بھی مزید برقرار نہ رہ سکے گا کہ پاکستان کی آمدن کا واحد مرکز کراچی ہے حالانکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ تمام بینکوں کے ہیڈ کوارٹرز کراچی میں ہے اور جتنا بھی ٹیکس اور فنڈز جمع ہوتے ہیں وہ کراچی کے بینکوں کے ہیڈ کوارٹرز کو ہی رپورٹ ہوتے ہیں اور پھر جو کراچی کی بندرگاہ کی آمدن ہے وہ بھی کسی صوبے کی نہیں بلکہ وفاق کی ہے کیونکہ چاروں صوبوں کے بزنس مین اور صنعت کار اپنا مال کراچی کے بندرگاہ کے ذریعے ہی منگواتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جو منصوبہ گزشتہ 40 سال میں دو مرتبہ کاغذوں میں ہی پڑا رہا اور مشرف دور میں بھی جس پر جزوی طور پر عمل درآمد ہوا ،کیا موجودہ اسٹیبلشمنٹ اسے کامیابی سے ہمکنار کر پائے گی یا ایک مرتبہ پھر میثاق جمہوریت وفاق کو مات دے جائے گا۔







