ملتان (وقائع نگار) نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں بڑی چوری کا انکشاف، 1500 پنکھے غائب، انتظامیہ خاموش تھانے میں مقدمہ درج نہیں کروایا گیا۔ معاملے کو دبانے کی کوشش ،نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے مصطفیٰ کمال پاشا آڈیٹوریم (لیکچر تھیٹر کمپلیکس) کے نیچے واقع سٹور سے مبینہ طور پر 1500 پنکھے چوری ہو گئے ہیں، جن کی مالیت تقریباً 50 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق چوری کے وقت سٹور میں 2170 پنکھے موجود تھے۔ یہ سامان یونیورسٹی کے استعمال کے لیے محفوظ کیا گیا تھا، لیکن اب بڑی تعداد میں پنکھے چوری ہو گئے ہیں سٹور تک رسائی کے لیے تین چیک پوسٹس ہیں جہاں پاک پبلک سیکورٹی کمپنی کے گارڈز تعینات ہیں۔ سٹور کی چابی سب انجینئر محمد زاہد یا ڈائریکٹر سیکورٹی ڈاکٹر عمران قیصرانی کے پاس ہوتی ہے۔ ایسے سخت سیکورٹی انتظامات کے باوجود بڑے پیمانے پر چوری ہونے کا واقعہ یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے سنگین سوال اٹھاتا ہے۔انتظامیہ کا رویہ مشکوک ہے یونیورسٹی انتظامیہ نے اب تک چوری کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج نہیں کروایا۔ اس کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انتظامیہ نے ایک چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے اراکین یہ ہیں پروفیسر ڈاکٹر مظفر عزیز سربراہ پروفیسر آف سرجری پروفیسر ڈاکٹر خورشید انور شعبہ فارمولوجی ڈاکٹر عامر اسد شاہ اے پی ایم او، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر زاہد احمد اے پی ایم او، ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متعلقہ افسران سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔واضح رہے کہ۔ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ہسپتال سے تنزہن آرائش کے دوران چالو حالت میں اتارے گئے ایئر کنڈیشنرز غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا، جو بعد میں دبا دیا گیا۔طلباء، اساتذہ اور مقامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی فنڈز سے خریدا گیا سامان چوری ہونے کے باوجود انتظامیہ کا فرض ادا نہ کرنا افسوسناک ہے۔اب تک نہ تو کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ ہی چوری کے ذمہ داروں کا تعین ہو سکا ہے۔
نشتر یونیورسٹی، دوران آڈٹ سرکاری اثاثوں میں بے ضابطگی کا انکشاف
ملتان (وقائع نگار) نشتر یونیورسٹی اینڈ الائیڈ انسٹی ٹیوشنز کے مالی سال 2024-25 ء کے آڈٹ کے دوران سرکاری اثاثوں کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، آڈٹ رپورٹ کے مطابق مختلف وارڈز اور شعبہ جات میں موجود فکسڈ اثاثوں کا ریکارڈ مرکزی رجسٹر اور جنرل سٹور کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، جس کے باعث سرکاری املاک کے ضیاع اورخورد برد کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیبنٹ اے سی، چلرز، سپلٹ اے سی، ونڈو اے سی اور سیلنگ فینز سمیت متعدد آلات کے اندراجات مختلف شعبوں کے فکسڈ اثاثہ رجسٹروں میں موجود ہیں، تاہم ان کا مرکزی ریکارڈ سے باقاعدہ موازنہ اور تصدیق نہیں کی گئی،مزید یہ کہ اثاثوں کی وصولی، منتقلی، تلفی یا ناکارہ قرار دینے سے متعلق اندراجات بھی مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپ ڈیٹ نہیں کئے گئے، آڈٹ حکام کے مطابق کمزور داخلی کنٹرول، قواعد و ضوابط پر عملدرآمد میں غفلت اور انتظامیہ کی موثر نگرانی نہ ہونے کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی، رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس بے ضابطگی کے نتیجے میں سرکاری اثاثوں کی چوری، خرد برد اور غلط استعمال کے خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ ادارے کے اثاثوں سے متعلق رپورٹنگ بھی غیر معتبر ہو سکتی ہے، آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ فوری طور پر گریڈ 19 یا اس سے بالاتر افسر کی سربراہی میں فزیکل ویریفیکیشن کمیٹی تشکیل دی جائے، جو گزشتہ دس برس کے دوران خریدے گئے، عطیہ میں ملنے والے یا دیگر ذرائع سے حاصل شدہ تمام اثاثوں کا جامع ریکارڈ مرتب کرے، رپورٹ میں ذمہ داران کے تعین اور مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے سخت انتظامی اقدامات کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
نشترہسپتال، سکیورٹی کمپنی کے منیجرکی سکیورٹی گارڈز کو دھمکانے کا وائس نوٹ سوشل میڈیا پر وائرل
ملتان (وقائع نگار ) نشتر ہسپتال میں سکیورٹی کمپنی ویل ویشر کے منیجر شہزاد کا سکیورٹی گارڈز کو سخت الفاظ میں دھمکانے کا وائس نوٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ۔ وائس نوٹ میں ویل ویشر سکیورٹی کمپنی کا منیجر شہزاد اپنے ماتحت کو یہ کہہ رہا ہے کہ نشتر ہسپتال میں جتنے بھی سکیورٹی گارڈز ہیں بے شک وہ 110/115 گارڈز ہوں انکو حکم دو کہ جو بھی کوئی سکیورٹی گارڈ جب کبھی بھی نوکری چھوڑنا چاہتا ہے وہ تحریری طور پر ایک ماہ پہلے کمپنی کو مطلع کرے گااور بغیر بتائے جو بندہ بھی چھٹی کرے گا ۔اسکی تنخواہ میں سے جرمانہ کی شکل میں فی یوم دو ہزار روپے کی کٹوتی کی جائے گی۔پھر بھی اس کے باوجود کوئی چھٹی کرتا ہے ۔یا چھوڑ کر جاتے ہیں یا نہیں آتے ۔وہ انکے ساتھ بعد میں دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔واضح رہے عیدالاضحی سے ایک دن قبل سکیورٹی گارڈز نے گزشتہ چار ماہ سےتنخواہیں نہ ملنے پر ہسپتال کے گیٹ کے سامنے احتجاج کیا تھا ۔سکیورٹی گارڈز شہزاد منیجر کے گھر بھی گئے تھے ۔وہاں انکو بتایا گیا کہ شہزاد کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ علاج کیلئے لاہور گیا ہوا ہے ۔جبکہ ذرائع کا بتانا ہےکہ شہزاد منیجر کو نشتر ہسپتال نے عید سے چار ، پانچ روز قبل چوالیس لاکھ روپے کا چیکس دے دیا تھا اور تلقین کی تھی کہ سکیورٹی گارڈز کو تنخواہوں کی ادائیگی ضرور کریںلیکن شہزاد چیک لیکر غائب ہوگیا تھا ۔پھر اچانک گزشتہ جمعہ کے روز شہزاد نے سکیورٹی گارڈز کی ایک ماہ کی تنخواہ دی ۔ کچھ سکیورٹی گارڈز کا کہنا ہے کہ شہزاد نے ہماری تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے کیے گئے احتجاج سے خفا ہوکر سخت قانون بنائے ہیں تاکہ ہمیں انڈر پریشر رکھا جائے ۔حالانکہ کمپنی پہلے ہی طے شدہ ایگریمنٹ سے ہٹ کر کم تنخواہوں کی ادائیگی تاخیر سے کر رہی ہے ۔متاثرہ سکیورٹی گارڈز نے نشتر ہسپتال انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی کو سختی سے حکم دیا جائے کہ وہ بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کریں ۔







