ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر ہسپتال میں ایچ آئی وی ٹیسٹ رپورٹ لیے بغیر مریض کا آپریشن کیے جانے اور اگلے روزاسی ماحول میں دو وارڈز کے 27 مریضوں کے آپریشن کیے جانے کے حوالے سے پی ایم اے کا حقائق کے منافی رد عمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے اس کیس کو ایمرجنسی کیس ظاہر کیا ہے جبکہ روزنامہ قوم کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حقائق اس طرح سے ہیں کہ یہ کوئی ایمرجنسی سرجری نہیں تھی بلکہ یہ مریض او پی ڈی کے ذریعے طے شدہ پروسیس کے مطابق داخل ہوا ۔ وہ پروٹوکول پیشنٹ تھا اس کی کوئی بھاری سفارش تھی؟۔ مذکورہ مریض کی پہلے بھی سرجری کی جا چکی تھی اور سٹوما بنایا گیا تھا، اب کئی ماہ بعد اپنی گٹ یعنی (بڑی آنت) کو واپس اپنی پوزیشن پر لانے کیلئے یہ سرجری کی گئی تھی،اس طرح کسی طور پر بھی یہ ایمرجنسی سرجری نہیں تھی۔ ڈاکٹر ہراج کی پریس کانفرنس کے مطابق اگر ایس او پیز کے تحت سرجری ہوئی ہے تو اسکا واضح مطلب یہی ہے کہ انکو بخوبی معلوم تھا کہ یہ مریض پازیٹو ہے۔ اگر معلوم نہیں تھا تو پھر کس بات کیلئے ایس او پیز لاگو کیے گئے؟ صرف غفلت چھپانے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ بقول ڈاکٹر ہراج اگر یہ مان لیا جائے کہ جونیئر ڈاکٹرز کی غلطی ہے تو پھر بطور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ انہوں نے آپریشن لسٹ کی ایک دن پہلے منظوری کیوں دی؟ جبکہ اس مریض کی رپورٹ ایچ آئی وی ٹیسٹ کے لیے بھیجی ہی نہیں گئی؟؟؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ رپورٹ آپریشن والے دن بھیجی گئی اور اسکا انتظار کیے بغیر سرجری کردی گئی۔ ڈاکٹر ہراج اگر ان ڈاکٹروں کے اتنے ہی ہمدرد ہیں تو انکا قصور بطور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اپنے سرپر لے کر امر کیوں نہیں ہو جاتے؟؟ انکی ریٹائرمنٹ میں ایک مہینہ باقی رہ گیا ہے اور اپنے دامن پر ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ ، ٹیمپرنگ، جعلی رپورٹس اور جونیئر ڈاکٹرز کے مستقبل کی دشمنی کے داغ ان کے دامن پر ہمیشہ رہیں گے اور کبھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔اگر موصوف کو اپنے جونیئر ڈاکٹرز کے ساتھ اتنا ہمدردی تھی تو خود کو بچانے کیلئے کٹھ پتلی نااہل وائس چانسلر کے ذریعے ان ڈاکٹرز کے خلاف انکوائری میں قصوروار نہ ڈکلیئر کرایا جاتا اور جس پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کمیٹی کی میٹنگ میں ان جونیئر ڈاکٹرز کے خلاف معطلی کی سفارشات بھیجی گئیںموصوف اس کمیٹی میں سینئر ممبر کے طور پر موجود تھے۔ یہ منافقانہ طرز عمل اپنے جونیئر ڈاکٹرز کے ساتھ رکھاگیا ۔موصوف 2024 کے ڈائلیسز یونٹ کے ایچ آئی وی سکینڈل میں مرکزی کردار تھے لیکن وفاقی وزیر رضاحیات کی پشت پناہی سے بچ نکلے۔ اب بھی مرکزی کردار ہونے کے باوجود وائس چانسلر کی ملی بھگت سے جونیئر ڈاکٹرز کی بلی چڑھا کر خود کو بچانے میں کامیاب ہو گئے۔
ایچ آئی وی مریض کی ایس اوپیزکےمطابق سرجری کی: ڈاکٹرمسعودہراج
ملتان (وقائع نگار)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان کے صدر اور سربراہ شعبہ سرجری نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مسعود الرئوف ہراج نے کہا ہے کہ حالیہ ایچ آئی وی مریض کی ایس او پیز کو مکمل دھیان میں رکھ کر ایمرجنسی سرجری کی گئی ہے ، حکومت سے درخواست ہے عالمی سطح کے ایکسپرٹس پر مشتمل کمیٹی بنا کر انٹرنیشنل گائیڈ لائنز کے مطابق انکوائری کروائے اگر ایک فیصد بھی غفلت ثابت ہو تو بے شک معطل کئے تمام جونیئر ڈاکٹرز کو بحال کر کے مجھے برطرف کر دیں۔ جونیئر ڈاکٹرز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے خلاف جلدی میں کی جانے والی کارروائی پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نشتر ہسپتال کینٹین پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن جنوبی پنجاب کے وفد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری پی ایم اے ملتان ڈاکٹر عمران حیدر قیصرانی نے کہا کہ ملتان میں ایچ آئی وی پی سی آر کی تا حال سہولت نہیں ہے،ایس او پیز بھی یہی بناتے ہیں کہ ایچ آئی وی رپورٹ نہ آنے کی صورت میں احتیاط کے مطابق سرجری کی طرف جا سکتے ہیں ،پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ 27 مریض متاثر ہوئے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ پی ایم اے پنجاب کے نائب صدر ڈاکٹر رضوان شریف نے کہا کہ ایچ آئی وی کا جرثومہ سٹرلائزیشن سے مر جاتا ہے۔ اس موقع پر پروفیسر طارق وقار ، ڈاکٹر مقبول عا لم ، ڈاکٹر زاہد خان ،نجیب چشتی ، وسیم اشرف ،اطہر کلیم ،یوسف لغاری ،مطلوب مغل ،وقار نیازی سمیت ڈاکٹرز کی کثیر تعداد موجود تھی۔
نشتر ہسپتال ملتان میں دو مریضوں کے ایچ آئی وی مثبت آنے کا انکشاف
ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال ملتان میں دو مریضوں کے ایچ آئی وی مثبت آنے کا انکشاف ہوا ہے ۔نشتر ہسپتال ملتان کی میڈیسن وارڈ نمبر 11 میں داخل دو نوجوان مریضوں کے ایچ آئی وی (ایڈز) ٹیسٹ مثبت آنے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ 28 سالہ محمد کاشف کا تعلق مظفرگڑھ سے جبکہ 20 سالہ محمد منیب کا تعلق جتوئی سے ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں مریضوں کا علاج مختلف صحت مراکز میں ہوا تھا جہاں انہیں انجیکشنز لگائے گئے۔ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں نشتر ہسپتال کے میڈیسن وارڈ میں داخل کرایا گیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر صوبہ پنجاب میں ایچ آئی وی (ایڈز)کے پھیلاؤ پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عطائی ڈاکٹروں اور حکومت پنجاب کی جانب سے ٹھیکے پر چلائے جانے والے بنیادی صحت مراکز اور رورل ہیلتھ سینٹرز میں استعمال ہونے والی استعمال شدہ سرنجز اور غیر معیاری ادویات کی وجہ سے ایچ آئی وی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ایک اہلکار نے بتایا کہ بہت سے دیہی علاقوں میں ایک سرنج کو متعدد مریضوں پر استعمال کیا جاتا ہے، جو خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کا بڑا باعث بن رہا ہے۔نان رجسٹرڈ نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریز کو بھی اس پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہےجہاں سہولیات اور سٹاف کی تربیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔
نشتر ہسپتال میں میاں بیوی سمیت منکی پاکس کے 4 مریض آئی سی یو داخل
ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال ملتان میں منکی پاکس کے چار مریض آئی سی یو میں داخل ،منکی پاکس کی بیماری میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ نشتر ہسپتال ملتان کےآئی سی یو وارڈ میں چار نئے مریضوں کو داخل کر لیا گیا ہےجن میں ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی شامل ہے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق مظفرگڑھ کا رہائشی 39 سالہ شخص اور اس کی بیوی منکی پاکس کا شکار ہوئے ہیں۔ دونوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ چترال کا رہائشی 26 سالہ نوجوان اور شجاع آباد کا 17 سالہ نوجوان بھی منکی پاکس میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ ان چاروں مریضوں کو نشتر ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کی طبی نگرانی جاری ہے۔محکمہ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ تمام مریضوں کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں اور رپورٹس کا انتظار ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کیسز مقامی طور پر پھیلے ہیں یا باہر سے آئے ہیں۔







