ملتان(سپیشل رپورٹر)دکھی انسانیت کی خدمت اور غریب پرور علاج گاہ کے طور پر جانا جانے والا جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تدریسی ہسپتال نشتر اس وقت مریضوں کو شفا دینے کے بجائے موت اور موذی بیماریاں بانٹنے والا ہولناک مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ایک سال کے قلیل عرصے میں نشتر ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں غفلت اور بغیر سکریننگ سرجری کے باعث ایچ آئی وی (ایڈز) پھیلنے کا یہ دوسرا بڑا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تونسہ میں بھی ایڈز پھیلنے کا ایسا ہی افسوسناک واقعہ رپورٹ ہو چکا ہے۔ یہ پے در پے سانحات محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس نے نہ صرف ملتان بلکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے امید لے کر آنے والے لاکھوں غریب مریضوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ہسپتالوں کے اندر سے پھوٹنے والی اس ہولناک وبائی لہر پر سینئرصحافیوں نے اسےطبی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری اور سخت ترین ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔نشتر ہسپتال میں پے در پے رونما ہونے والے ان واقعات پر شہریوں نے انتظامیہ اور حکومت کو کڑے ہاتھوں لیا ہے۔’’قوم‘‘ گفتگو کرتے ہوئے سینئرصحافی عبدالستارقمر،حسیب اعوان،حیدرعباس ،ثاقب چودھری اورشاہدجعفری کاکہنا تھا کہ نشتر ہسپتال صرف ملتان کا نہیں بلکہ پورے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے غریب عوام کی واحد بڑی علاج گاہ ہے۔ یہاں روزانہ ہزاروں غریب لوگ اس امید پر آتے ہیں کہ انہیں شفا ملے گی، لیکن یہاں انہیں ایڈز جیسی موذی بیماری کا تحفہ دے کر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ ایک سال میں یہ دوسرا واقعہ ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پچھلی بار وزیر اعلیٰ کی طرف سے کی گئی کارروائی محض ایک تماشا اور دکھاوا تھی، کوئی تادیبی سزا نہیں دی گئی۔ اگر پہلے واقعے کے مجرموں کو عبرت کا نشان بنایا جاتاتو آج یہ دوبارہ نہ ہوتا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ ہسپتال ایک حساس ترین جگہ ہے، اگر وہاں سرجری سے پہلے لازمی سکریننگ ٹیسٹ ہی نہیں کیے جا رہے اور آلودہ اوزار استعمال ہو رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ معصوم انسانی جانوں سے دانستہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ایک دوسرے شہری نے انتہائی دردمندی اور غصے سے سوال اٹھایا کہ نشتر ہسپتال میں صرف وہ غریب آتا ہے جس کے پاس پرائیویٹ علاج کے پیسے نہیں ہوتے۔ اگر یہاں کسی غریب کو ایڈز لگ جائے تو وہ اس کے مہنگے علاج کے لیے کہاں جائے گا؟ یہ صرف ایک بندے کی بیماری نہیں، یہ پورے خاندان کی بربادی ہے۔ یہ بیماری اوزاروں کے ذریعے پھیلائی گئی ہے، اب وہ مریض گھر جائے گا تو اس کے بچوں، بیوی اور دیگر لواحقین میں یہ منتقل ہوگی۔ پورا معاشرہ اس کی زد میں آئے گا۔شہری نے ماضی کے ایک اور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل نشتر کی چھت پر لاوارث لاشیں سڑنے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس ہسپتال میں انسانی جان اور احترام کی کوئی قیمت نہیں ہے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی دباؤ کی نذر یا سرد خانے میں ڈالنے کے بجائے فوری اور شفاف انکوائری کی جائے۔ گفتگو میں شامل شہریوں کا کہنا تھا کہ اس مجرمانہ غفلت میں جو بھی ڈاکٹرز، سرجنز یا پیرامیڈیکل سٹاف ملوث ہے، انہیں معطل نہیں بلکہ نوکریوں سے مستقل برطرف کیا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ ایسے لوگوں کو دوبارہ کبھی نوکری پر بحال نہیں کیا جانا چاہیے۔شہریوں نے اصرار کیا کہ جس آپریشن تھیٹر میں یہ واقعہ ہوا ہے اسے فوری طور پر سیل کیا جائے اور ہسپتال کے تمام سرجیکل اوزاروں اور بلڈ بینکنگ کے نظام کی ازسرنو سخت چیکنگ کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور غریب کا گھر اجڑنے سے بچایا جا سکے۔







