ملتان (رپورٹ: شاہد صدیق) عیدالاضحیٰ کے موقع پر میونسپل کارپوریشن ملتان کے گریڈ 12 کے اہلکار راؤ رفیع اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر مویشی منڈی میں جا کر غنڈا گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جانوروں کے تاجروں سے نہ صرف غیر قانونی طور پر جگا ٹیکس وصول کیا بلکہ انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دے کر فی جانور بھتہ بھی وصول کیا۔ متاثرہ تاجروں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور کمشنر ملتان سے ان سرکاری ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ بیوپاریوں کے مطابق، اہلکار راؤ رفیع نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مویشی منڈی میں داخل ہو کر بکرے اور دیگر جانور غیرقانونی طور پر اٹھا کر ٹرکوں میں ڈالنے شروع کر دیے۔ اس کے بعد وہ روزانہ کی بنیاد پر دن میں کئی مرتبہ مختلف تاجروں کو تھانہ شاہ شمس کے سامنے ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکیاں دیتے اور انہیں بلیک میل کر کے ہزاروں روپے وصول کرتے ہیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ گزشتہ روز ہم چار لوگوں کو بکروں سمیت مویشی منڈی سے اٹھا کر لے جایا گیا۔جب ہم نے احتجاج کیا تو ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں بعد ازاں تھانہ شمس آباد کے سامنے بلیک میل کر کے ہر شخص سے 22 ہزار روپے لینے کے بعد ہمیں سادہ کاغذ پر انگوٹھوں کے نشان لے کر چھوڑ دیا گیا۔ صورتحال کے حوالے ملتان سے تعلق رکھنے والے تاجر حاجی فیض بخش کا کہنا ہے:”ہم تو خوف سے کانپ رہے ہیں۔ راؤ رفیع اپنے چار پانچ غنڈوں کو لے کر آتا ہے اور کسی کو نہیں چھوڑتا۔ ہم یہ کیسے مان لیں کہ افسران اس کی ان حرکتوں سے اگاہ نہیں ہیں۔ ہم جب منڈی میں بیٹھتے ہیں تو خوف لگا رہتا ہے کہ کب یہ لوگ آئیں اور ہمیں اٹھا کر لے جائیں۔ ہم تاجر ہیں مجرم تو نہیں اور نہ ہی ہم کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ورکر ہیں کہ ہمیں بغیر وجہ بتائے اٹھا لیا جائے۔ ہماری کمائی حلال ہے، لیکن یہ لوگ ہم سے زبردستی بھتہ لے رہے ہیں۔“ڈیرہ غازی خان سے جانور لے کر آنے والے تاجر محمد رمضان کا کہنا تھا کہ ہم نے میونسپل کارپوریشن کو قانونی ٹیکس ادا کر رکھا ہے۔ ان کے پاس اس کے ریکارڈ موجود ہیں، پھر بھی یہ ہمیں ہراساں کرتے ہیں۔ گزشتہ روز جب انہوں نے ہمارا بکرا اٹھایا تو میں نے کہا کہ آپ کو ٹیکس دے دیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ یہ مٹھائی ٹیکس ہے جس پر ہم بیوپاریوں نے کہا کہ یہ کس قانون میں لکھا ہے یہ تو منظم سرکاری ڈکیتی ہے۔ بہاولپور سے آئے ہوئے تاجر غلام سرور نے احتجاج کرتے کہا کہ ہم سے صرف روپے نہیں لیے، ہمارے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔ ایک بوڑھے تاجر کو انہوں نے دھکا دے کر گرا دیا۔ جب ہم نے کہا کہ ہمارے پاس اتنے روپے نہیں ہیں، تو کہنے لگے کہ پھر جانور لے کر تھانے چلو، ایف آئی آر کرکے تمہیں جیل بھیج دیں گے۔ ڈر کے مارے جو مانگا دے دیا۔راجن پور سے مویشی لے کر آنے والے تاجر اللہ وسایا کا کہنا تھا کہ ”میرے پاس صرف چار بکرے تھے۔ راؤ رفیع نے دو بکرے اٹھوا لیے اور کہا کہ چھوڑنا ہے تو 15 ہزار روپے دو۔ میرے پاس تھے نہیں، تو میں نے کہا بکرے رکھ لو۔ تب تو بولے کہ بکرے تو کارپوریشن کے ہو گئے، اب 15 ہزار روپے بھی دینے ہوں گے ورنہ تھانے چلو۔ مجبوراً میں نے اپنی بیوی سے ایزی پیسہ کے ذریعے رقم منگوا کر دے دی۔ اب بتائیں، یہ جہاں کا انصاف ہے۔ ہم نے اپنا کاروبار چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اگر ایک ہفتے میں راؤ رفیع اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو ہم ملتان کی مویشی منڈی کا بائیکاٹ کریں اور ہمارا شک یقین میں بدل جائے گا کہ کہ راؤ رفیق جو کھلے ہم کہتا ہے کہ یہ پیسے اوپر تک جاتے ہیں، اسکی یہ بات سچ ہے گے ہم دھرنا دیں گے۔ متاثرہ شہریوں اور تاجروں نے کہا کہ یہ سرکاری غنڈہ گردی کی بدترین مثال ہے جہاں خود قانون نافذ کرنے والے قانون کو پامال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ ہے کہ راؤ رفیع اور اس کے ساتھیوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے اور انہیں معطل کیا جائے اور ان کے خلاف محکمانہ انکوائری کی جائے۔ متاثرہ تاجروں کو ان کی وصول کردہ رقم واپس کی جائے اور واقعے کے شواہد کی روشنی میں سرکاری ملازمین کے خلاف اینٹی کرپشن میں بھی مقدمہ درج کیا جائے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کمشنر ملتان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی یقینی بنائیںواضح رہے کہ ملتان کی مویشی منڈی میں اس قسم کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی ٹھیکیداروں اور سرکاری ملازمین کی طرف سے اورچارجنگ اور لوٹ مار کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم اس بار اہلکاروں کا براہ راست بلیک میلنگ اور دھمکیوں کا سہارا لینا انتہائی قابلِ افسوس ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت اور ملتان انتظامیہ شہریوں اور بیوپاریوں کے اس بڑھتے ہوئے احتجاج پر کیا کارروائی کرتی ہے۔







