منشیات فروش خاتون کی گرفتاری، ایف آئی آر میں غلط پتہ درج ہونے پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا

کراچی: شہر قائد میں مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد پولیس کی تفتیشی کارروائی سوالات کی زد میں آگئی، کیونکہ مقدمے میں ایک بے گناہ خاندان کا پتہ درج کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خاتون کو گارڈن کے علاقے بلال آرکیڈ سے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم ایف آئی آر میں جس فلیٹ کا پتہ درج کیا گیا وہ گزشتہ آٹھ برس سے ایک دوسرے خاندان کے زیر استعمال ہے۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کا انمول عرف پنکی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ اسے جانتے ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں حیرت ہے کہ پولیس نے ان کا رہائشی پتہ مقدمے میں کس بنیاد پر شامل کیا۔
خاندان نے مؤقف اختیار کیا کہ غلط پتہ درج ہونے کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس کی تفتیشی طریقہ کار اور مقدمے کے اندراج میں مبینہ غفلت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان نے حکام سے معاملے کی شفاف تحقیقات اور غلطی درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملکہ منشیات انمول عرف پنکی کیس، ایف آئی آر میں غلط پتہ درج ہونے پر بلال آرکیڈ میں ہنگامہ

کراچی: شہر قائد میں مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کرلیا جب ایف آئی آر میں غلط رہائشی پتہ درج ہونے کا انکشاف سامنے آیا، جس کے بعد بلال آرکیڈ کے مکینوں اور انتظامیہ میں شدید تشویش پھیل گئی۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے مقدمے میں دعویٰ کیا تھا کہ ملزمہ کو گارڈن ویسٹ کے بلال آرکیڈ فیز ٹو کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ مذکورہ فلیٹ میں گزشتہ آٹھ سال سے ایک الگ خاندان کرائے پر مقیم ہے۔
متاثرہ خاندان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا انمول عرف پنکی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ اسے جانتے ہیں۔ خاندان کے مطابق پولیس کی مبینہ غفلت کے باعث انہیں شدید ذہنی دباؤ اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب بلال آرکیڈ یونین کے نمائندے اور فلیٹ کے مالک سلیم احتجاج کرتے ہوئے گارڈن تھانے پہنچ گئے۔ یونین عہدیدار کے مطابق پولیس نے غلط ایڈریس درج ہونے پر معذرت بھی کی ہے۔
یونین کا کہنا ہے کہ پولیس حکام نے ہدایت دی ہے کہ میڈیا نمائندوں کو فلیٹ میں داخل ہونے یا وہاں رہنے والے افراد سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔
ادھر فلیٹ کے مالک نے بھی رہائشی خاندان کو مکان خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کے باعث متاثرہ اہلخانہ مزید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
بلال آرکیڈ یونین کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اس معاملے پر میڈیا کے سامنے واضح مؤقف اختیار کرے اور عوامی سطح پر معافی مانگے تاکہ بے گناہ رہائشیوں کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

انمول عرف پنکی کیس میں نیا موڑ، گرفتاری کراچی نہیں بلکہ لاہور سے ہونے کا دعویٰ

کراچی: مبینہ منشیات اسمگلر خاتون انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے متعلق کیس میں نیا انکشاف سامنے آگیا، جس کے مطابق ملزمہ کو کراچی نہیں بلکہ لاہور سے حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ کراچی پولیس نے گزشتہ روز مؤقف اختیار کیا تھا کہ انمول عرف پنکی کو گارڈن ویسٹ بلال آرکیڈ فیز ٹو کے ایک فلیٹ سے گرفتار کیا گیا اور اسی مقام کا پتہ ایف آئی آر میں بھی درج کیا گیا تھا۔
تاہم پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ کو دراصل ایک خفیہ ادارے نے تقریباً ایک ہفتہ قبل لاہور کے صدر ڈویژن کے ایک علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ٹریس کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے اس کی لوکیشن معلوم کی گئی جس کے بعد گرفتاری عمل میں آئی۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں موجود اس کے مبینہ ٹھکانے سے بھاری مقدار میں منشیات بھی برآمد کی گئی، جن کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ خود بھی منشیات کی تیاری کے عمل میں ملوث تھی اور یہ مکان کرائے پر لیا گیا تھا۔
مزید اطلاعات کے مطابق انمول عرف پنکی نے ایک سابق پولیس انسپکٹر سے دوسری شادی کر رکھی تھی، جس نے مبینہ طور پر صدر ڈویژن میں اس کے لیے رہائش کا بندوبست کیا تھا اور مکان اپنے نام پر کرائے پر حاصل کیا تھا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملزمہ کا منشیات سپلائی نیٹ ورک زیادہ تر کراچی میں فعال تھا، تاہم لاہور میں اس کے خلاف اس سے قبل کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

منشیات کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کی مبینہ آڈیو لیک، کراچی بھر میں نیٹ ورک چلانے کا دعویٰ

کراچی: منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آگئی ہے جس میں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتی سنائی دے رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والی آڈیو میں مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کہتی ہے کہ کئی سالوں سے مختلف ادارے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں لیکن اسے گرفتار نہیں کر سکے۔ آڈیو میں وہ طنزیہ انداز میں کہتی ہے کہ اگر لوگ اس کی طرح سوچنا شروع کر دیں تو وہ بھی “برانڈ” بن سکتے ہیں۔
مبینہ آڈیو میں ملزمہ یہ دعویٰ بھی کرتی سنائی دیتی ہے کہ اس کا نیٹ ورک پورے کراچی میں سرگرم ہے اور شہر بھر میں اس کا کام پھیلا ہوا ہے۔ وہ چیلنجنگ انداز میں کہتی ہے کہ اگر کوئی اسے پکڑ سکتا ہے تو پکڑ کر دکھائے۔
یاد رہے کہ گارڈن پولیس نے حالیہ کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے قبضے سے پستول، بھاری مالیت کی کوکین، مختلف کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئی تھیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ دس مختلف مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھی جبکہ وہ شہر میں منشیات کی خرید و فروخت اور سپلائی کے منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔
تحقیقات کے مطابق ملزمہ آن لائن آرڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی اور اس مقصد کیلئے مخصوص رائیڈرز کے ساتھ ساتھ خواتین رائیڈرز کو بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں