مومنہ اقبال ہراسگی کیس: ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل، عدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی-مومنہ اقبال ہراسگی کیس: ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل، عدالت نے عبوری ضمانت میں توسیع کر دی-ڈاکٹر نبیحہ علی نے خلع کی درخواست واپس لے لی، شوہر سے صلح کے بعد عدالت نے کیس خارج کر دیا-ڈاکٹر نبیحہ علی نے خلع کی درخواست واپس لے لی، شوہر سے صلح کے بعد عدالت نے کیس خارج کر دیا-آزاد کشمیر الیکشن: میرپور اور کوٹلی میں ووٹ پر ڈاکے کا الزام، بلاول بھٹو نے ریاست سے بڑا مطالبہ کر دیا-آزاد کشمیر الیکشن: میرپور اور کوٹلی میں ووٹ پر ڈاکے کا الزام، بلاول بھٹو نے ریاست سے بڑا مطالبہ کر دیا-راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مبینہ مسلح ملزم گرفتار، تفتیش میں اہم انکشافات کا دعویٰ-راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مبینہ مسلح ملزم گرفتار، تفتیش میں اہم انکشافات کا دعویٰ-نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، ریاست اور مسلح افواج سے متعلق بیانات پر کارروائی-نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، ریاست اور مسلح افواج سے متعلق بیانات پر کارروائی

تازہ ترین

ملتان: پرائیویٹ یونیورسٹیزمیں ایم فل، پی ایچ ڈی داخلوں کی لوٹ سیل

ملتان (وقائع نگار)ملتان کی متعدد پرائیویٹ یونیورسٹیوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ مستقل فیکلٹی کی کمی کے باوجود ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں بڑی تعداد میں داخلے دے رہی ہیں جو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی پالیسیوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ یونیورسٹیاں ایک ہی سبجیکٹ میں 100 سے 200 تک طلبہ کو داخلہ دے رہی ہیں جبکہ ایچ ای سی کی گائیڈ لائنز کے مطابق ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے مستقل اور اہل فیکلٹی کی موجودگی لازمی ہے۔ ایچ ای سی کی گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 کے مطابق، یونیورسٹیوں کو داخلہ ٹیسٹ اور کم از کم 16 سال کی تعلیم (ایم فل کے لیے) اور 18 سال (پی ایچ ڈی کے لیے) کی شرط کو پورا کرنا ہوتا ہے اور فیکلٹی کی کمی کی صورت میں پروگرامز کو معطل کیا جا سکتا ہے۔ملتان میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی فہرست میں ٹائمز یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سدرن پنجاب، انسٹی ٹیوٹ آف سدرن پنجاب، ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ایئر یونیورسٹی ملتان کیمپس شامل ہیںجو ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز پیش کر رہی ہیں۔ تاہم ایچ ای سی نے ماضی میں متعدد یونیورسٹیوں کے پروگرامز کو خلاف ورزیوں پر بند کیا ہے ۔\2018 میں 13 یونیورسٹیوں کے ڈسٹنس لرننگ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز پر پابندی لگائی گئی تھی اسی طرح 2016 میں 34 پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کو معیار پورا نہ کرنے پر بند کیا گیا جن میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے کچھ پروگرامز بھی شامل تھے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کے نمائندے ان پرائیویٹ اداروں کا دورہ کیوں نہیں کرتے اور کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ ایچ ای سی کی جانب سے غیر قانونی اور غیر تسلیم شدہ اداروں کی فہرست جاری کی جاتی ہےاور پنجاب میں متعدد سب کیمپس کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے لیکن ملتان میں مخصوص خلاف ورزیوں پر اب تک کوئی تازہ کارروائی سامنے نہیں آئی۔ پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں داخلوں میں 30 فیصد تک کمی دیکھی جا رہی ہے جو مالی بحران کا سبب بن رہی ہے۔ 2025 میں بی زیڈ یو نے داخلوں کو دوبارہ کھولا کیونکہ سیٹیں خالی رہ گئیں اور اس بحران کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہوں پر اثرات پڑ سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی ہائی فیس اور نوجوانوں میں مایوسی کی وجہ سے ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں