ملتان (سٹاف رپورٹر ) ملتان سے ملحقہ انتہائی قیمتی موضع متی تل میں 1947 میں بھارت سے آ کر آباد ہونے والے مہاجرین کو جو ہندوؤں کی ,چھوڑی ہوئی زمینیں الاٹ کی گئی تھیں، 78 سال بعد اس تمام اراضی کو جعلی کاغذات اور فرضی انتقالات پر مختلف فراڈیوں کو الاٹ کرنے کی اربوں روپے کی منظم ڈکیتی کے جنوبی پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ریونیو فراڈ کا انکشاف ہوا ہے اور انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق کل 144 فراڈ اور جعل سازی پر مبنی جعلی اور غیر قانونی طور پر یہ انتقالات ہوئے جن میں ابھی تک 100کی تعداد میں جعلی انتقال سامنے بھی آ چکے ہیں۔ حیران کن طور پر سابق ڈپٹی کمشنر ملتان جعلی انتقالات کا اقرار کرکے ان کی منسوخی کے احکامات اے ڈی سی آر کے ذریعے جاری کروا چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جو بھی اس کیس کو ہاتھ ڈالتا ہے اس کا ٹرانسفر ہو جاتا ہے اور مصدقہ ذرائع کے مطابق سابق کمشنر ملتان مریم خان اور سابق ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو بھی اسی وجہ سے ٹرانسفر ہوئے کہ انہوں نے اس کیس پر ہاتھ ڈالا تھا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی کوشش کی تھی۔ حیران کن طور پر تھانہ الپہ میں اس جعل سازی کے خلاف اب تک نو مقدمات درج ہو چکے ہیں جبکہ اینٹی کرپشن میں بھی دو مقدمات درج ہیں اور 2 مقدمات ایک سال سے pending ہیں مگر کوئی بھی مقدمہ آگے نہیں بڑھ رہا اور انکوائری افسران ان فائلوں پر کاروائی کی بجائے سہولت کار بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی کاروائی آگے نہیں بڑھ رہی۔ اس تمام صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ 1947 میں ان مہاجرین جو ہجرت کے دوران اپنا مال دولت اور عزتوں کی قربانی دے کر پاکستان پہنچےکو لوٹنے والے تو غیر مسلم ہندو اور سکھ تھے جبکہ 2025 اور 2026 میں انہیں ان کی جائیدادوں سے محروم کرنے والے تمام کے تمام کلمہ گو مسلمان ہیں۔ ملتان کے موضع متی تل کو، ایک سابق پٹواری ناصر جاوید نے چند بڑے افراد کے ساتھ ساز باز ہو کر غیر قانونی طور پر 1947 کے الاٹ شدہ جائیدادوں کے حقیقی اور اصل مالکان و قابضین سے 100 سے زائد جعلی انتقالات کے ذریعے ایسے لوگوں کے نام یہ جائیدادیں ٹرانسفر کر دیں جن کا نہ کبھی اس موضع میں موقع پر کوئی قبضہ تھا اور جن کا نہ ہی اس موضع سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی ان کی کوئی ملکیتی زمین اس موضع میں تھی۔ ان جعل سازوں نے کروڑوں روپے مالیت کی 20 کنال اراضی ایک فراڈیے طاہر مدنی گیلانی ولد سید الطاف حسین گیلانی کے نام100% جعلی اور فراڈ پر مبنی اور غیر قانونی طور پر انتقال کروا لیا ۔ اسی طرح 130 کنال 17 مرلے اسی موضع متی تل کی اراضی اور جعلساز محمد عمران لوٹھڑ ولد دوست محمد قوم لوٹھڑکے نام کچھ اس طرح ٹرانسفر کی گئی کہ پہلے یہ اراضی کے جعلی کاغذات محمد عمران لوٹھڑ کی والدہ حمید اختر زوجہ دوست محمد کے نام کھاتہ نمبر 437 نمبر شمار 11307 کے تحت جعلی اور فراڈ پر مبنی انتقال میں مذکورہ خاتون حمید اختر کو مالک ظاہر کیا گیا اور پھر مذکورہ خاتون نے یہ زمین اپنے بیٹے محمد عمران لوٹھڑ ولد دوست محمد لوٹھڑ کو تملیک کر دی اس طرح قیام پاکستان کے 79 سال بعد محمد عمران لوٹھڑ اس موضع میں 120 کنال 17 مرلے اراضی کا فراڈ اور جعلسازی کی ذریعے نا جائز اور غیر قانونی طور پر مالک بنا دیا گیا۔ اور کمپیوٹر ریکارڈ میں بھی اس جعلسازی کا اندراج ہو چکا ہے جس کے بارے میں حکومت پنجاب اور ملتان انتظامیہ کا دعوی ہے کہ لینڈ ریکارڈ میں کسی قسم کی ہیرا پھیری ہو نہیں سکتی مگر یہ کھلے عام ہیرا پھیری کسی کو دکھائی نہیں دے رہی ۔اسی طرح 20 کنال زمین کاشف اظہر ولد اظہر عباس قوم قریشی کو رجسٹر حقداران زمین کے کھاتہ نمبر 392 کے تحت فراڈ اور جعلسازی اور غیر قانونی طور پر کے تحت مالک ظاہر کیا گیا اور بعد میں یہ زمین طاہر مدنی گیلانی ولد سید الطاف حسین گیلانی کے نام ٹرانسفر کرا دی گئی۔ جن افراد کے ساتھ یہ ظلم ہوا اور ان سے زمین کی ملکیت چھین لی گئی انہوں نے ثبوتوں کے ساتھ سابق ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو کو درخواست دی تو مکمل تحقیقات کے بعد وسیم حامد سندھو نے اپنے اے ڈی سی آر کے ذریعے لیٹر نمبر 574 مورخہ 13 مارچ 2025 کو جاری کرایا اورموضع متی تل کی ان 100 سے زائد جعلی انتقالات نمبری11347 سے لیکر انتقال نمبر 11346 تک پر ہر قسم کی ٹرانسفر و فروخت و معاہدہ پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ ضلعی انتظامیہ کی بے بسی کا اس سے بڑا اور ثبوت کیا ہوگا کہ اس لیٹر کے جاری ہونے اور پابندی عائد ہونے کے بعد بھی بااثر ترین جعل سازوں نے 8 اپریل 2025 کو محمد عمران لوٹھڑ ولد دوست محمد خان اور محمد اشفاق ولد دوست محمد خان قوم لوٹھڑ کو اس اراضی کا مالک بنا دیا اور کمپیوٹر ریکارڈ میں اس جعل سازی پر مہر تصدیق ثبت کر دی گئی حالانکہ اے ڈی سی آر کے خط کے بعد یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ انتقال نمبر 11247 سے لے کر انتقال نمبر 11346 تک کے 100 انتقال پر کسی بھی صورت میں عمل درامد نہیں ہو سکتا اور اس لیٹر کی بابت اسسٹنٹ کمشنر صدر کے ذریعے تمام ریونیو افسران اور پٹواریوں کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی تھی اور انہیں روک بھی دیا گیا تھا کہ کسی قسم کی رجسٹریشن یا ٹرانزیکشن نہیں ہو سکتی۔ اس میگا سکینڈل پر ریوینیو حکام نے ایک تفصیلی رپورٹ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان میں جمع کرائی جو گزشتہ کئی ماہ سے فیصلے کے منتظر ہے اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں من پسند افسران لگوا کر سوچی سمجھی سازش کے تحت تمام کاروائی اور درج دو مقدمات کھُوہ کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ دو مقدمات کی ایک سال سے ایف آئی آر ہی درج نہیں کی جا رہی ۔ اینٹی کرپشن حکام نے جعل سازوں کی سہولت کاری لیے لودھراں سے ایک کاریگر سرکل آفیسرCO کواینٹی کرپشن ملتان میں ایڈیشنل چارج دے کر یہ انکوائری ان کے سپرد کر دی اور سارا معاملہ ٹھپ ہو گیا۔ سابق کمشنر وسیم حامد سندھو کے حکم پر اے ڈی سی آر کی طرف سے پابندی لگائے جانے کے باوجود با اثر افراد کے بے پناہ دباؤ کے تحت غیر قانونی طور پر انتقال نمبر 11306 انتقال نمبر 11307 اور انتقال نمبر 11308 اپریل 2025 جو کسی صورت کمپیوٹر نہیں کیے جا سکتے تھے ان کو کمپیوٹرائزڈ کر کے پاس کر دیے گئے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان میں مقدمہ نمبر 4 برائے سال 2025 اور مقدمہ نمبر 5 برائے سال 2025 درج ہے مگر ان پر کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہو رہی آج تک ایک بھی جعلی انتقالات کروانے والا benificiary ملزم گرفتار نہیں کیا گیا اور اینٹی کرپشن حکام سہولت کاری میں مصروف ہیں جبکہ تھانہ الپہ میں جو نو مقدمات درج ہیں ان میں مقدمہ نمبر 680, 681, 682, 683, 684, 685, 686 687 اور 674 شامل ہیں یہ تمام کے تمام مقدمات سال 2025 میں درج ہوئے ہیں کسی بھی مقدمے میں کسی بھی قسم کی کوئی پیش رفت سوا سال گزرنے کے باوجود سامنے نہیں آ سکی۔







