ملتان: بوسن روڈ پر تیز رفتاری کا خوفناک انجام، کار میں آگ، 5 نوجوان زندہ جل گئے

ملتان(نمائندہ خصوصی) ملتان کے مصروف بوسن روڈ پر پیش آنے والے دلخراش ٹریفک حادثے میں تیز رفتار کار ڈیوائیڈر اور خالی پلاٹ کی دیوار سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچوں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حادثہ سبزہ زار میٹرو سٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار کار ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر پہلے سڑک کے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور پھر قریبی خالی پلاٹ کی دیوار سے جا لگی۔ شدید ٹکر کے باعث گاڑی کے بونٹ اور انجن میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ کار کو پہنچنے والے نقصان کے باعث اس میں سوار نوجوانوں کو جان بچانے کا موقع نہ مل سکا۔ حادثے نے ایک مرتبہ پھر ملتان میں تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور مؤثر ٹریفک نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 ملتان کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں ۔ ریسکیو اہلکاروں اور فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کے بونٹ اور انجن میں لگی آگ پر قابو پایا اور تباہ شدہ کار سے پانچوں نوجوانوں کی لاشیں نکالیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق تمام افراد شدید چوٹوں اور سر پر گہری ضربیں لگنے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ ضروری قانونی کارروائی کے بعد پولیس کی موجودگی میں لاشوں کو نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ مقامی پولیس نے جائے حادثہ کا معائنہ کرکے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے کارروائی شروع کر دی۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں محمد مزمل ولد عبدالخالق عمر 23 سال، محمد یاسر ولد محمد امیر، عمر 22 سال اور رمضان ولد غلام قاسم، عمر 28 سال شامل ہیں، جن کا تعلق شجاع آباد سے بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دو نوجوانوں کی شناخت تاحال نامعلوم بتائی گئی ہے، جن کی عمریں تقریباً 24 اور 25 سال کے درمیان ہیں۔ پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے سردار ملک غلام عباس کھاکھی (مرحوم) کے بھانجے ملک نور محمد المعروف ملک دولہ کھاکھی (مرحوم) اور ملک صابر حسین المعروف ملک جگو کھاکھی (مرحوم) کے بیٹے وہاب اور کاشو حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔حادثے میں پانچ قیمتی جانوں کے ضیاع نے متاثرہ خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیا ہےجبکہ واقعے کے بعد شہری حلقوں میں ٹریفک کی صورت حال اور تیز رفتار ڈرائیونگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق اس حادثے کا ایک تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر بے قابو تیز رفتار کار کسی ایسے عوامی مقام پر راہگیروں، موٹر سائیکل سواروں یا سڑک عبور کرنے والے شہریوں سے ٹکرا جاتی جہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی تو جانی نقصان کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا تھا۔ ایسی صورت میں نہ صرف اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ تھا بلکہ متعدد افراد زخمی بھی ہو سکتے تھے۔ خوش قسمتی سے گاڑی ڈیوائیڈر اور دیوار سے ٹکرائی، تاہم پانچ نوجوانوں کی ہلاکت بذات خود اس امر کی سنگینی واضح کرتی ہے کہ تیز رفتاری معمولی ٹریفک خلاف ورزی نہیں بلکہ جان لیوا خطرہ بن سکتی ہے۔ملتان شہر کے مختلف علاقوں میں کاروں، موٹر سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں کی تیز رفتاری کے حوالے سے شہریوں کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار اور کار ڈرائیور ٹریفک قوانین اور رفتار کی مقررہ حدود کو نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہونے کے باوجود مؤثر نگرانی اور وارڈنز کی موجودگی محسوس نہیں ہوتی۔ شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر اہم شاہراہوں پر تیز رفتاری اور خطرناک ڈرائیونگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں تو ایسے واقعات بار بار کیوں پیش آ رہے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف عملی کارروائی کے نتائج سڑکوں پر کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ایک روز قبل روزنامہ ’’قوم‘‘ میں شائع ہونے والی خبر میں بھی شہر کے ٹریفک نظام، قوانین کی خلاف ورزیوں اور مختلف مقامات پر ٹریفک پولیس کی عدم دستیابی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ملتان میں پیش آنے والے اس افسوس ناک واقعے کے بعد ٹریفک حکام کی کارکردگی، سیف سٹی کیمروں سے نگرانی، اہم شاہراہوں پر مؤثر نفری کی تعیناتی اور تیز رفتار گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں