ملتان: بند کمرے میں کھلی کچہری، عوام باہر، افسران اندر، جعلی سائلین پیش، میڈیا بین-ملتان: بند کمرے میں کھلی کچہری، عوام باہر، افسران اندر، جعلی سائلین پیش، میڈیا بین-لال سونہارا پارک میں ہولناک آگ بےقابو، قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات شدید متاثر-لال سونہارا پارک میں ہولناک آگ بےقابو، قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات شدید متاثر-گلبرگ ایگزیکٹو فراڈ، ایم پی اے غلام اصغر گورمانی سمیت ملزموں کی جائیدادیں منجمد-گلبرگ ایگزیکٹو فراڈ، ایم پی اے غلام اصغر گورمانی سمیت ملزموں کی جائیدادیں منجمد-تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو ریلیف دینے کا مقصد، کئی شعبوں کو بجٹ میں سہولتیں دی گئیں: وزیر خزانہ-تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو ریلیف دینے کا مقصد، کئی شعبوں کو بجٹ میں سہولتیں دی گئیں: وزیر خزانہ-سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کا فلم ‘کالا ہرن’ کے خلاف نوٹس جاری-سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کا فلم ‘کالا ہرن’ کے خلاف نوٹس جاری

تازہ ترین

ملتان: بند کمرے میں کھلی کچہری، عوام باہر، افسران اندر، جعلی سائلین پیش، میڈیا بین

ملتان (سپیشل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پرعوامی مسائل کے حل کیلئے رضا ہال ملتان میں لگائی جانے والی کھلی کچہری مختلف اداروں کے افسران نے ہائی جیک کر لی۔ گزشتہ منعقد ہونے والی کھلی کچہری کی میڈیا کوریج اور لوگوں کی شکایات کے پیش نظر گزشتہ روز اسی رضا ہال میں منعقد ہونے والی کھلی کچہری میں نہ سائلین موجود تھے اور نہ ہی میڈیا۔بلدیہ و دیگر محکموں کے نچلے درجے کے اہلکار سائلین بنا کر بٹھا دیئے گئے۔ محض دکھاوے کے لئے کاؤنٹر لگائے گئے، افسران سیٹوں پر براجمان رہے جبکہ سائلین غائب تھے۔ چند روز پہلے ہونے والی کھلی کچہری کے برعکس گزشتہ روز رضا ہال میں ہونے والی کھلی کچہری مکمل طور ناکام نظر آئی جہاں میڈیا کے داخلے پر بھی پابندی لگائی گئی کیونکہ پہلی کھلی کچہری کے دوران میڈیا نے عوامی مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی۔ تفصیلات کے مطابق رواں ماہ کے دوران دوسری کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جہاں مختلف محکموں کے کاؤنٹر لگائے گئے اور ملازمین عوامی مسائل پر مشتمل درخواستیں وصول کرنے کیلئے افسران تعینات بھی ہوئے مگر روزنامہ قوم کے سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کھلی کچہری میں محکموں کے خلاف چند ایک معمولی نوعیت کی شکایات موصول ہوئیں۔ گزشتہ کھلی کچہری کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئےموجودہ کھلی کچہری میں حالیہ کھلی کچہری کو اچھی طرح مینج کرنے میں انتظامیہ مکمل طور پر کامیاب رہی۔ میڈیا کو بھی کچہری میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینا بھی بذات خود سوالیہ نشان ہے۔ صرف سرکاری میڈیا کو سب اچھا کی رپورٹ بنانے کی اجازت دی گئی۔ سائلین نے’’ قوم‘‘ کو بتایا کہ گزشتہ کھلی کچہری کے دوران موقع پر ہی مسائل حل کرنے کے احکامات جاری ہوئے تھے اور بعض شکایات کی دادرسی بھی ہوئی مگر اس بار آنے والے سائلین کو ٹرخانے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ اتنے سائلین کھلی کچہری میں نہیں تھے جتنے سرکاری افسران اپنی گاڑیوں پر کھلی کچہری پہنچے۔

بہاول پورمیں بھی کھلی کچہری پرسوالات، سائلین کو اندرجانے نہ دیا گیا

ملتان(سپیشل رپورٹر)بہاولپورمیں چیئرپرسن کمپلینٹ سیل وزیر اعلیٰ پنجاب کی ’’کھلی کچہری‘‘پربھی سوالات اٹھ گئے، سائلین اور میڈیا کو داخلے میں مشکلات کا سامناکرناپڑا۔بہاولپور بہاولپور میں چیئرپرسن کمپلینٹ سیل وزیر اعلیٰ پنجاب صائمہ فاروق کی جانب سے منعقدہ کھلی کچہری کے حوالے سے بعض شہریوں، سائلین اور میڈیا نمائندگان کی جانب سے انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔مقامی ذرائع اور بعض متاثرہ سائلین کے مطابق کھلی کچہری کے دوران متعدد افراد کو اندر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ بعض میڈیا نمائندگان نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں تقریب کی مکمل کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔ سائلین کا کہنا ہے کہ وہ دور دراز علاقوں سے اپنی شکایات لے کر آئے تھے مگر گھنٹوں انتظار کے باوجود انہیں اپنی درخواست پیش کرنے کا موقع نہ مل سکا۔کچھ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ محدود تعداد میں افراد کو ترجیحی بنیادوں پر اندر جانے کی اجازت دی گئی جس کے باعث دیگر سائلین میں بے چینی اور مایوسی پائی گئی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر یہ عوامی کھلی کچہری تھی تو تمام شکایت کنندگان کو یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تھے۔دوسری جانب بعض صحافیوں اور میڈیا نمائندگان نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر پروگرام مکمل طور پر شفاف اور عوامی نوعیت کا تھا تو میڈیا کی رسائی کو محدود کرنے کی وجوہات واضح کی جانی چاہئیں۔ ان کے مطابق عوامی مسائل کے حل کے لیے منعقد ہونے والی ایسی تقریبات میں میڈیا کی موجودگی شفافیت اور عوامی اعتماد کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔متاثرہ سائلین نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام اس معاملے کی وضاحت کریں اور یہ بتایا جائے کہ کھلی کچہری میں کتنی درخواستیں وصول ہوئیں، کتنے شہریوں کے مسائل موقع پر حل کیے گئے اور کتنی شکایات مزید کارروائی کے لیے متعلقہ محکموں کو بھجوائی گئیں۔واضح رہے کہ ان الزامات اور شکایات کے حوالے سے تاحال ضلعی انتظامیہ یا کمپلینٹ سیل کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں