ملتان (وقائع نگار) پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے کہا ہے کہ تخت لاہورجنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کا ذمہ دار ہے۔ اسی لیے الگ صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لیے سرائیکی خطہ کے اراکین اسمبلی کو ایک ہونا پڑے گا چاہے صوبے کا نام کوئی بھی رکھ دیا جائے اصل مقصد تخت لاہور کا تسلط ختم کرنا ہے۔ جہاں جہاں الگ صوبہ کی ضرورت ہے وہاں ضرور صوبے بنائے جائیں۔ ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان ڈویژن پر مشتمل ایک الگ صوبہ جنوبی پنجاب وقت کی اشد ضرورت ہے ۔لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر صوبے بنائے جائیں انشاءاللہ الگ صوبہ کے قیام بارے جلد خوشخبری ملے گی ۔خیبر پختون خوامیں امن و امان کی بہتر صورتحال نہ ہونے پر شدید تشویش ہے۔ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے پارلیمنٹ سمیت ہر سطح پر بھرپور کردار ادا کریں گے 8 مثالی گاؤں بنانے کا اعلان کیا گیا لیکن صرف ایک پر کام شروع ہوا اور ملتان کے علاقہ بندہ سندیلہ میں مثالی گاؤں کا اعلان کر کے ملتان کو فوقیت نہ دی بلکہ مثالی گاؤں کے نام سے کروڑوں ضائع کر دئیے گئے۔ ایم پی اے رانا اقبال سراج نے کہا کہ 11 ارب روپے کا جہاز تو کچھ بھی نہیں صاف ستھرا پنجاب سمیت دیگر گھپلے جلد منظر عام پر آ ئیں گے۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کسان تباہ ہو چکا ہے کسانوں پر 45 فی صد زرعی ٹیکس کی شدید مذمت کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔سید علی قاسم گیلانی نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے اب تک 100 کے قریب جو بھی اتھارٹی بنی اس کے ساتھ لفظ لاہور لکھا نظر آیا۔ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے لیے آئے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز اپر پنجاب پر خرچ کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج 79 سال گزرنے کے باوجود بھی جنوبی پنجاب کی محرومیاں اور پسماندگی ختم نہیں ہو سکی۔ سندھ حکومت اپنے وسائل سے اگر رحیم یار خان میں گردوں کے علاج معالجے کا ہسپتال اور گوجر خان میں دل کے امراض کا ہسپتال بناتی ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جب سندھ حکومت نے ملتان میں ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے آئی ٹی پراجیکٹ پر کام شروع کرنا چاہا تو اس پر اعتراض آ جاتا ہے۔







